مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 640
640 میں کسی جگہ صرف پانچ گھر تھے اور پچاس ہزار ایکٹر زمین ان کے ارد گرد فارغ پڑی تھی ، اس وقت اگر کوئی کمیونزم کی بات کر تا تو پاگل سمجھا جاتا اور ہر شخص کہتا کہ اس کی پانچ ایکٹر زمین کیوں چھینتے ہو ، پچاس ایکٹر زمین جو فارغ پڑی ہے اس پر قبضہ کیوں نہیں کرتے۔پس کمیونزم محض اس زمانہ کی پیدائش ہے ہمیشہ کے لئے قانون نہیں ہو سکتا۔یہی فرق ہو تا ہے مذہب اور غیر مذ ہب میں۔مذہب کے علاوہ جس قدر مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ صرف مقامی اور وقتی ہوتے ہیں لیکن مذہب ایک دائی صداقت ہوتا ہے۔تم کسی زمانہ میں بھی اسلام کو لے جاؤ اس پر ہمیشہ عمل کیا جاسکتا ہے لیکن کئی دور ایسے آئینگے جن میں کمیونزم نہیں چل سکتا۔کئی دور ایسے آئیں گے جن میں سوشلزم نہیں چل سکتا۔کئی دور ایسے آئیں گے جن میں کیپٹل ازم نہیں چل سکتا۔جب کبھی ملک کی آبادی بڑھ جائے گی اور دولت گھٹ جائے گی کیپٹل ازم کبھی قائم نہیں رہ سکتا اور جب ملک کی آبادی کم ہو جائے گی اور ذرائع دولت بڑھ جائیں گے ، اس وقت کمیونزم کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔جب ملک کی آبادی کم ہو جائے گی تو کسی سے چھینے کا کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔ہر شخص کہے گا کہ جاؤ اور زمینوں پر قبضہ کر لو اور جب ملک کی آبادی بڑھ جائے گی تو پھر کیپٹل ازم قائم نہیں رہ سکتا۔یہ سارے کے سارے سوالات ملک کی آبادی کی کمی یا زیادتی سے پیدا ہوتے ہیں۔تم آبادی کو کم کرد و لازما کیپٹل ازم قائم ہو جائے گا اور لوگ منتیں کریں گے کہ تم زمینوں کو سنبھالو۔ہمیں تو جتنی ضرورت تھی ہم نے لے لی ہے لیکن جب آبادی بڑھ جائے گی تو وہی آدمی جس کے دادا پر دادا کہہ رہے تھے کہ زمینوں کو سنبھالو ہمیں اس کی ضرورت نہیں رہی، شور مچانے لگ جائیں گے کہ تمہارے پاس سو ایکٹر زمین ہے ، دس دس ایکٹر ہمیں دے دو۔پس یہ محض حالات بدلنے کے نتائج اور مجبوریاں ہیں لیکن مذہب ایسی چیز ہے جو ہمیشہ قائم رہتی ہے اور یہ تمام چیزیں اسی نکتہ کے ساتھ وابستہ ہیں کہ انسان کی نسل آگے ترقی کرتی اور بڑھتی چلی جاتی ہے اسی طرح جو سچی قومیں ہوتی ہیں وہ بھی آدم کے مشابہ ہوتی ہیں اور ان کی کامیابی کا طریق بھی یہی ہوتا ہے کہ ان میں نئی نسلیں پیدا ہوتی ہیں۔پھر اور پیدا ہوتی ہیں پھر اور پیدا ہوتی ہیں اور وہ اس معیار ایمان اور معیار تقویٰ کو قائم رکھتی ہیں جس کو قائم رکھنا خد اتعالیٰ کا منشاء ہے اور جس معیار ایمان اور معیار تقویٰ کے قیام کے لئے خدا تعالٰی کے انبیاء دنیا میں آتے ہیں۔پس ہمیشہ ہی خدائی جماعتوں اور خدائی سلسلوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ ان کے اندر زندگی کی روح پیدا ہو۔ان کے اندر ایسے نوجوان پیدا ہوں جو دین کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے والے اور تقویٰ کے ساتھ کام کرنے والے ہوں۔دھڑے بازی کی عادت ان میں نہ ہو۔وہ قضاء کے مقام پر پورے اترنے والے ہوں اور دوسروں کا حق دینے کے معاملہ میں نہ دشمنی ان کے راستہ میں روک ہو۔نہ دوستی ان میں جنبہ داری کا مادہ پیدا کرنے والی ہو۔جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھے تو وہ یہ نہ دیکھیں کہ ہماری دوستیاں کن لوگوں سے ہیں اور ہمارے اس جواب کا اثر ان پر کیا پڑے گا بلکہ وہ صرف یہ دیکھیں کہ خدا اور اس کے رسول نے کیا کہا ہے اور قرآن میں کیا لکھا ہے۔جب ایسے آدمی کسی قوم میں پیدا ہو جائیں تو پھر وہ قوم