مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 629

629 ہوں گے جو دوبارہ جلسہ سالانہ پر نہ آسکتے ہوں۔اس لئے ساری جماعت کے فائدہ کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔کل شوری میں اس کے متعلق فیصلہ کر لیا جائے۔آئندہ یہ اجتماع محرم کے دنوں میں نہیں ہو سکے گا کیونکہ محرم آئندہ اٹھارہ سال گرمی کے موسم میں آئے گا اور گرمی برداشت نہیں ہو سکے گی۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سال اجتماع میں نمائندگان کی حاضری بہت کمزور ہے۔گذشتہ سالوں میں رپورٹ میں مقابلہ کیا جاتا تھا کہ پچھلے سال اتنے خدام حاضر ہوئے تھے اور اب اتنے خدام آئے ہیں لیکن اس سال یہ حوالہ نہیں دیا گیا اور جب حوالہ نہ دیا گیا تو مجھے شک پڑا۔اس لئے میں نے کہا کہ پچھلے حوالے لاؤ۔جب وہ حوالے لائے گئے تو معلوم ہوا کہ پچھلے سال بیرون جات سے پانچ سو نوے خدام آئے تھے اور اس سال پانچ سو پچپن خدام آئے ہیں۔پچھلے سال بیرونی جماعتوں کی نمائندگی تہتر تھی لیکن اس سال صرف چون مجالس کے نمائندے آئے تھے۔گویا اس سال ۱/۴ سے کچھ زیادہ کمی ہے۔یہ حالت تسلی بخش نہیں۔ہونا یہ چاہئے تھا کہ چند نمائندے زیادہ آتے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر واقعہ میں اپنے فرائض کو ادا کیا جاتا اور خدام اپنے وعدے پورے کرتے تو اس سال سینکڑوں نئی جگہوں میں جماعتیں قائم ہو جاتیں اور اگر ان نئی جماعتوں میں سے دس فیصدی جماعتوں کے نمائندے بھی یہاں آتے تو پچھلے سال مجالس کی نمائندگی جو تہتر تھی اب سو ہو جاتی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدام نے صحیح طور پر اپنے فرائض کو ادا نہیں کیا۔ایک اور چیز جس کا رپورٹ میں ذکر نہیں کیا گیا وہ یہ ہے کہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سال کتنی نئی مجالس قائم ہوئی ہیں اور ان نئی مجالس میں سے کتنی مجالس کے نمائندے یہاں آئے ہیں۔پچھلے سال میں نے کہا تھا کہ ہر گاؤں اور ہر شہر میں مجالس قائم کرو اس لئے چاہئے تھا کہ مجلس عاملہ مجھے بتاتی کہ پچھلے سال کل تعداد مجالس کیا تھی اور اب کیا ہے۔مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ اس سال انتیس نئی مجالس قائم ہوئی ہیں۔اگر یہ بات درست ہے تو پچھلے سال انتیں مجالس کم تھیں لیکن تہتر مجالس کے نمائندے اجتماع پر آئے تھے۔اب انتیں مجالس زیادہ بھی ہو گئی ہیں لیکن صرف چون مجالس کے نمائندے یہاں آئے ہیں۔اگر ان مجالس میں سے پانچ سات مجالس بھی ایسی ہیں جو اس سال نئی قائم ہوئی ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ پرانی مجالس میں سے پستالیس یا چھیالیس مجالس کے نمائندے آئے۔اس طرح حاضری میں کوئی چالیس فیصد کی کمی آگئی ہے اور یہ بات نہایت افسوسناک ہے۔اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ کام مجلس عاملہ کا ہے۔اسے اس طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔اس سال سوائے لڑائی اور شکایتیوں کے مجلس عاملہ نے کوئی کام نہیں کیا۔آپس کے جھگڑوں پر اس نے وقت ضائع کیا ہے۔اصل کام کی طرف توجہ نہیں کی لیکن جہاں یہ بات افسوسناک ہے کہ مجلس عاملہ نے کوئی کام نہیں کیا وہاں مجھے یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی ہے کہ ہماری تنظیم میں ترقی ہوئی ہے۔ایک تو انتیس نئی مجالس قائم ہوئی ہیں۔اگر چہ تعداد تسلی بخش نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ہمار اقدم پیچھے نہیں ہٹا بلکہ کچھ آگے ہی بڑھا ہے مگر یہ کہ جتنا قدم آگے بڑھنا چاہئے تھا، اتنا نہیں بڑھا۔دوسری خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارا چندہ منتظم ہو رہا ہے۔پچھلے سال کے چار ہزار روپیہ چندہ کے مقابلہ میں اس سال کا چندہ آٹھ ہزار