مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 613
613 مقام قاضی سے شریعت نے اپنے دائرہ میں گواہی لینے کا حق دیا ہے ' تم سے دریافت کرے اور تم سچ نہ بولو۔مثلا تم سکول کے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور اگر کسی لڑکے نے دو سرے لڑکے کو مارا یا اس نے گالی دی یا سکول کی کوئی چیز اٹھالی تو مجسٹریٹ ہیڈ ماسٹر ہے اگر وہ تمہیں بلائے اور تم سے دریافت کرے کہ فلاں بات کیسے ہوئی تو تم ٹھیک ٹھیک واقعہ بیان کر دو لیکن اگر وہ تمہیں گواہی کے لئے نہ بلائے تو خواہ وہ بات درست ہی ہو ، اس کا چھپا نا سچ کے خلاف نہیں بلکہ اس طرح تم صلح پسند بنتے ہو اور فتنہ سے دور رہتے ہو۔دوسری چیز محنت ہے۔یہ خلق بھی ہمارے ملک میں کم پایا جاتا ہے اور مسلمانوں کی تباہی کا زیادہ تر موجب یہی تھا کہ ان میں محنت کی عادت جاتی رہی تھی۔جتنے وقت میں ہمارے نوجوان ایک چھوٹا اور ادنی علم سیکھ سکتے ہیں وہ در حقیقت دنیا میں چوٹی پر پہنچنے کا زمانہ ہوتا ہے۔ہمارے نوجوان پچیس چھبیس سال کی عمر میں کالج سے فارغ ہوتے ہیں لیکن دنیا کے دوسرے ممالک کے لوگ اس عمر میں چوٹی تک پہنچ جاتے ہیں۔جس وقت ہمارے نوجوان کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں دوسرے ممالک کے لوگ اس وقت تک ملک میں کافی شہرت حاصل کر لیتے ہیں۔ان کے کام کا زمانہ پندرہ سولہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے لیکن ہمارے نوجوان بچیں پچیس سال کی عمر تک ماں باپ کی کمائی پر پلتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر محنت کی عادت نہیں پائی جاتی۔انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ بزرگوں کا فرض ہے کہ وہ ہمیں کھلائیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا بھی کوئی فرض ہے۔کہتے ہیں ایک بوڑھا شخص کوئی ایسا درخت لگا رہا تھا جو دیر سے پھل دیا کرتا ہے۔ایران کا بادشاہ اس بوڑھے کے پاس سے گذرا اور اس سے دریافت کیا۔بوڑھے تم ستر اسی سال کے ہو چکے ہو اور یہ درخت جب پھل دے گا اس وقت تک تم مرچکے ہو گے۔تم یہ درخت کیوں لگا رہے ہو۔بوڑھے نے جواب دیا۔بادشاہ سلامت! آپ کیا کہہ رہے ہیں۔اگر یہی خیال ہمارے بزرگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا اور وہ یہ درخت نہ لگاتے تو ہم پھل کہاں سے کھاتے۔انہوں نے درخت لگائے اور ہم نے پھل کھایا۔اب ہم یہ درخت لگائیں گے تو آنے والی نسل اس کا پھل کھائے گی۔اس بادشاہ کی عادت تھی کہ جب اسے کوئی بات پسند آتی تو وہ کہتا " زہ" اور خزانچی کو حکم تھا کہ جب وہ کسی کام پر " زہ" کہے تو وہ تین ہزار دینار کی تحصیلی بطور انعام اسے دیدے۔بادشاہ نے اس بوڑھے کے جواب پر کہا " ہ " اور خزانچی نے تین ہزار دینار کی تحصیلی فور ابوڑھے کے سامنے رکھ دی اور کہا کہ بادشاہ سلامت کو آپ کی بات بہت پسند آئی ہے اور انہوں نے آپ کو یہ رقم بطور انعام دی ہے۔بوڑھے نے ہنس کر کہا۔بادشاہ سلامت! آپ نے تو کہا تھا بوڑھے تم کیا کر رہے ہو۔اس کا تمہیں کیا فائدہ۔لوگ جلدی جلدی پھل دینے والے درختوں کا پھل بھی ایک عرصہ کے بعد کماتے ہیں لیکن میں نے تو اس درخت کا پھل اسے لگاتے ہی کھالیا۔بادشاہ کو یہ بات پھر پسند آئی اور اس نے کہا " زہ" اور خزانچی نے تین ہزار دینار کی ایک اور تھیلی اس بوڑھے کے سامنے رکھ دی۔بوڑھا ہنسا اور اس نے کہا۔بادشاہ سلامت! اور لوگ تو جلد سے جلد پھل دینے والے درخت کا پھل