مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 598

598 ” ہر نوجوان کے اندر یہ آگ ہونی چاہئے کہ وہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو قائم کر دے" اگر یہ آگ پیدا نہ ہو تو وہ سلسلہ کے لئے مفید وجود دوا نہیں" ے نومبر ۱۹۵۰ء بعد نماز عصر چودہ روزہ تربیتی کورس کے اختتام پر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے تربیتی کورس میں شامل ہونے والے خدام کو الوداعی پارٹی دی گئی جس میں حضرت (۔۔۔۔) خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقعہ پر مکرم مولوی محمد صدیق صاحب مولوی فاضل انچارج کیمپ نے مفصل رپورٹ پڑھ کر سنائی اور حضرت (۔۔۔۔۔۔) خلیفہ المسیح الثانی سے درخواست کی کہ اس دفعہ جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کے متعلق حضور راہنمائی فرمائیں تا آئندہ انہیں دور کیا جا سکے۔اس کے بعد حضور کے ارشاد پر مکرم مولوی صاحب نے تمام خدام کے نام جو اس کو رس میں شامل ہوئے اور ان کے حاصل کردہ نمبر پڑھ کر سنائے۔کورس میں مکرم مولوی ناصرالدین صاحب مولوی فاضل (محمد آباد اسٹیٹ سندھ اول ، مولوی محمد امین صاحب مولوی فاضل ( ننکانہ صاحب) دوم اور صوفی محمد رفیق صاحب و قریشی محمد احمد صاحب (ربوہ) سوم رہے۔نام سنائے جانے کے وقت حضور کے ارشاد پر ہر خادم کھڑا ہو جاتا تھا تاکہ دوسرے دوست اسے پہچان سکیں۔اس موقعہ پر حضور نے جو تقریر فرمائی تھی وہ پہلی مرتبہ رسالہ خالد جنوری ۱۹۶۷ء میں شائع ہوئی تھی۔(مرتب) حضور نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا :۔” نام جو میں نے پڑھوائے تھے اس کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ دیکھوں تربیت کا کس حد تک اثر ہوا ہے۔پچاس خدام میں سے بارہ ایسے تھے جو کھڑے ہونے سے پہلے اس کے لئے تیار نہیں تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر تربیتی کلاس کا کوئی اثر نہیں ہوا لیکن اکثریت ایسی تھی جس نے اپنا مقصد سمجھا تھا یعنی پچاس میں سے اڑ تمہیں کا کھڑا ہونا ظاہر کرتا تھا کہ وہ انتظار میں تھے کہ آواز آئے اور وہ اٹھ کھڑے ہوں لیکن بارہ ایسے تھے جو