مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 573
573 تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ ریل ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ لنڈن ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ نیو یارک ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ دہلی ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ دریا ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ ایک خیمہ ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ ایک خادم ہے جو پہرہ دے رہا ہے۔تم یہ سب کچھ کہہ سکتے ہو لیکن جو شخص تمہارے ساتھ سازش میں شریک نہیں ہو گا اسے جب تم کہو گے کہ یہ پہاڑی ہے تو وہ کہے گا ٹھیک ہے لیکن جب تم کہو گے یہ خیمہ ہے تو وہ کہے گا یہ جھوٹ ہے۔تم پاگل ہو گئے ہو۔جب تم کہو گے یہ لنڈن ہے تو وہ کہے گالا حول ولا قوۃ الا باللہ۔اگر تم کہو گے کہ یہ نیو یارک ہے تو وہ کہے گا پاگل خانہ میں جا کر دماغ کا علاج کراؤ۔غرض جھوٹ یا سازش میں جو شریک نہ ہو اس کے سامنے جب کسی چیز کا وہ نام لو جو اس کا اصلی نام نہیں تو تین کنڈیشنز ہوں گی۔یا تو وہ کہے گا یہ تمسخر کر رہا ہے یا کہے گا کہنے والا احمق ہے یا کہے گا یہ جھوٹ ہے۔ان تین حالتوں کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔غرض راست بازی ایک طبعی خلق ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ جب کسی کے سامنے تم ایک چیز کا ہی نام لو گے جو اس کا اصلی نام ہے تو وہ اس کی تصدیق کرے گا اور جب کوئی اور نام لو گے تو وہ تمہاری تکذیب کرے گا۔تم اپنی بیوی بیٹے ماں باپ اور بھائی کے سامنے بھی کوئی اور نام لے کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کرو گے تو وہ تمہاری تکذیب کریں گے۔تم اگر اپنے بچہ کے سامنے بھی اس پہاڑی کے متعلق یہ کہو گے کہ کراچی سے ایک خادم آیا ہے اور وہ پہرہ دے رہا ہے تو وہ کسے گا باپ مذاق کر رہا ہے۔تم اگر زیادہ زور دو گے تو ہو سکتا ہے وہ مان جائیں اور کہیں زیادہ نہ چڑاؤ کہیں جنون بڑھ نہ جائے۔پس راست بازی با ہر سے نہیں آتی بلکہ انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔باہر سے اسے منایا جاتا ہے۔مثلاً تم اپنے کسی دوست سے مذاق کرنا چاہتے ہو۔تم ایک بانس پر شلوار اور قمیص لٹکا کر کہو گے کہ یہ آدمی کھڑا ہے تو یہ بات باہر سے پیدا ہوئی ہے۔تمہارا دل یہ کہہ رہا ہو گا کہ یہ ایک بانس ہے اور اس پر شلوار اور قمیص لٹکائی ہوئی ہے۔راستبازی جہاں ایک فطری اور طبعی خلق ہے وہاں دین کو بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ راستبازی چھوڑ کر تم آدمیت کے دائرہ سے نکل جاتے ہو کیونکہ آدمی نام ہے دل کا۔آدمی اس فیصلہ کا نام نہیں جو تم طبعی حالات میں کرتے ہو۔آدمی نام ہے ان صحیح جذبات اور صحیح افکار کا جو انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔آدمی نام ہے صحیح عزائم اور صحیح ارادوں کا جو انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔جب صحیح جذبات، صحیح افکار اور صحیح عزائم اور صحیح ارادوں کے خلاف تمہاری ظاہری اغراض اور خارجی ضرورتیں تمہیں کوئی اور بات کہنے پر مجبور کرتی ہیں تو وہ غیر طبعی چیز بن جاتی ہے، راست بازی نہیں رہتی مگر جہاں آکر آدمیت کا تعلق ہوتا ہے تم اسے کچل رہے ہوتے ہو لیکن اس کے ساتھ ہی راستبازی کی مذہب کو بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ مذہب خود ایک سچائی ہے۔اس لئے کہ خدا تعالٰی کا ایک نام حق بھی ہے یعنی خدا تعالی ایک ایسی چیز ہے جو خلاف واقع نہیں بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح کہا گیا ہے اور خدا تعالیٰ وہ بات کہتا ہے جو راست ہوتی ہے۔خداتعالی پاڑ کو دریا نہیں کہتا اور نہ دریا کو پہاڑ کہتا ہے۔وہ پہاڑ کو پہاڑ اور دریا کو دریا کہتا ہے۔وہ آدمی کو جنگل نہیں کہتا اور نہ جنگل کو