مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 49
49 اغراض سمجھانے کے لئے جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔جب نوجوانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا دین کوئی نیا دین نہیں تو قدرتی طور پر ان کا ذہن یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ سوائے چند مستثنیات کے جن میں ہمارے آباء نے غلطی کی اور وہ اصل شریعت سے دور جاپڑے ، ہر پچھلی چیز کو ہم نے قائم کرنا ہے۔اس وجہ سے ان کے ذہن میں کوئی امتیازی بات نہیں آتی اور وہ اس امر کے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہم میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے لیکن جب نیا دین ہو یا پہلے دین کی بعض باتوں میں تغیر و تبدل ہو تو وہ ہر قدم کے اٹھاتے وقت یہ پوچھ لیتے ہیں کہ کیوں جی ایہ کام ہم نے اس طرح کرنا ہے یا اس طرح۔حضرت مسیح ناصری کے زمانہ میں جب آپ کے متبعین کے دلوں میں فقیہیوں اور فریسیوں کے متعلق یہ سوال پیدا ہوا کہ ہم ان کی باتوں کو مانیں یا نہ مانیں اور انہوں نے حضرت مسیح ناصری سے یہی سوال کیا تو چونکہ معلوم ہوتا ہے اس زمانہ میں شریعت موسویہ میں لوگوں نے زیادہ تغیر پیدا نہیں کیا تھا۔چند نئی باتیں تھیں جو حضرت مسیح نے اپنے پیاز کی وعظ میں بتا دیں اس لئے حضرت مسیح نے فرمایا فقیہہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں۔پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کزو او ر مانو۔لیکن ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں "۔(متی ۲-۲۳/۳) گویا بد عقیدگی ان میں کم تھی اور بد اعمالی زیادہ تھی۔اسی لئے آپ نے یہ ہدایت دی کہ جو قیمی اور فریبی کہتے ہیں اس پر بے شک عمل کرو مگر ان کے اعمال کی نقل نہ کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے زمانہ کی حالت اس زمانہ سے بالکل مختلف ہے۔اس زمانہ میں مشالا تو رات میں بہت سے تغییرات کئے جاچکے ہیں مگر باوجو د تغیرات کے اور باوجود تحریف والحاق کے یہودی اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ ہماری کتاب محفوظ ہے۔مگر ہمیں ایک ایسی قوم سے واسطہ پڑا ہے جو اس کے بالکل انٹ چلتی ہے۔یعنی تو رات میں تو تبدیلی ہو چکی تھی اور یہودی قوم یہ اصرار کرتی تھی کہ اس میں تبدیلی نہیں ہوئی مگر قرآن جو کہ بالکل محفوظ ہے۔اس کے متعلق مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اس کی کئی آیتیں منسوخ ہیں۔اب یہ کتنا عظیم الشان اختلاف ہے۔اس زمانہ کے یہودیوں اور اس زمانہ کے مسلمانوں میں وہ باوجود کتاب کے بگڑ جانے کے کہتے تھے کہ ہماری کتاب بالکل محفوظ ہے اور مسلمان باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کہتاہے کہ اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار میں اور اس کے ایک حرف اور ایک شعشہ کی تبدیلی بھی ناممکن ہے مسلمان یہ کہتے ہیں اس کی بہت سی آیتیں منسوخ ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں قرآنی احکام پر عمل کرنے کا جوش باقی نہیں رہا۔کیونکہ انہیں خدا تعالیٰ کے کلام میں شک پیدا ہو گیا اور جب کسی حکم کے متعلق شک پیدا ہو جاتا ہے تو جوش عمل باقی نہیں رہتا اور ہر بیت پر عمل کرتے وقت انسانی قلب میں یہ وسوسہ پیدا ہو جاتا ہے کہ ممکن ہے جس آیت پر میں عمل کر رہا ہوں یہ منسوخ ہی ہو۔چنانچہ پانچ آیتوں سے لیکر چھ سو آیتوں تک منسوخ قرار دی جاتی ہیں۔یعنی بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں منسوخ ہیں اور بعض نے زیادہ۔یہاں تک کہ بعض علماء نے منسوخ آیات کی تعداد چھ سو تک پہنچادی ہے۔اب چھ سو آیتیں قرآن مجید کا ایک معتد بہ حصہ ہیں جن کو اگر الگ کر لیا جائے تو ایک خاصہ حصہ علیحدہ ہو جاتا ہے مگر مسلمانوں کو اس امر کی کوئی پرواہ نہیں۔ان کی کتابوں میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں اور اب تک مسلمان اس کے