مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 569

569 ہے۔ایمان در حقیقت وہ قوت محرکہ ہے جو صداقتوں کو ماننے اور صداقتوں کو دنیا میں پھیلانے کے پیچھے عمل کر رہی ہوتی ہے۔اشھدان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبدہ ورسولہ وہ کلمہ ہے جو رسول کریم ملی علیم کے زمانہ میں اور پھر اس کے بعد کے لوگوں میں قوت محرکہ کے طور پر رہا ہے۔یعنی جب رسول کریم ال اللہ اس دنیا میں موجود تھے اس وقت بھی یہ کلمہ قوت محرکہ کے طور پر تھا اور آپ کے بعد کے زمانہ میں بھی یہی کلمہ قوت محرکہ کے طور پر ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں کوئی کلمہ نہیں تھا بلکہ یہ عقیدہ رکھنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تا وہ اپنی قوم کی اصلاح کریں اور ان کے اعمال درست کریں ، اسی کو قوت محرکہ قرار دیا گیا تھا۔اس سے قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا اور ان کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرنا قوت محرکہ قرار دیا گیا تھا۔گویا اسلام سب جگہوں پر موجود تھا لیکن اس کی شکلیں بدل گئی تھیں۔اسی طرح ایمان ہر جگہ تھا لیکن قوت محرکہ بدلتی رہتی تھی۔ایمان صرف کلمہ کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس یقین اور اعتماد کا جو صداقت اور اصول صداقت پر ہو۔جو انسانی اعمال اور زندگی کو اس کے تابع کر دے۔بے شک کسی وقت اس کا جزو حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لانا تھا۔کسی وقت اس کا جز و حضرت موسیٰ یہ السلام پر ایمان لانا تھا۔کسی وقت اس کا جزء حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان ارانا تھا لیکن اب محمد رسول اللہ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان لانا اس کا جزو ہے۔پس پہلی چیز جس سے کوئی قوم بنتی ہے ، وہ ایمان یہ تو مذ ہی چیز ہے لیکن جب ہم قوموں کی طرف جاتے ہیں تو ان کے اندر ایمان ایک الگ رنگ میں ہوتا ہے جسے نیشنل سپرٹ یا قومی روح کہا جاتا ہے۔گویا قومی روح سیاسی ایمان ہے۔ایک انگریز کا ایمان یہ ہے کہ حکومت کی جو شکل بنتی ہے اس کی حفاظت اور قیام کے لئے وہ ہمیشہ فعال رہے گا۔ایک امریکن کا ایمان یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے ماتحت علاقوں کو جو شکل حاصل ہے، اس کی حفاظت اور ترقی کے لئے وہ ہمیشہ کوشاں رہے گا۔یه سیاسی ایمان بھی اسی طرح کا ہے جس طرح کا مذہبی ایمان ہے کہ مذہب کی تمام صداقتوں پر ایمان لایا جائے اور اس کے جو اصول ہیں ان کی حفاظت اور اشاعت کے لئے اپنی ساری زندگی لگادی جائے اور جس وقت کوئی شخص یہ پختہ عہد کر لیتا ہے کہ میں ان صداقتوں اور ان اصولوں پر قائم رہوں گا اور دوسروں کو بھی ان کی طرف بلاؤں گا تو اسے ایمان کہتے ہیں۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کا دوبارہ احیاء کیا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ اسلام زندہ ہی ہے لیکن موجودہ لوگوں کا یقین اور اعتماد جو بے کار ہو چکا تھا اور خدا اور اس کار سول اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اس دنیا میں تشریف لائے۔پس احمدیت میں داخل ہونے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جس اصول صداقت کو اسلام نے پیش کیا ہے یعنی اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهدان محمدا عبده و