مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 541
541 سیکھے۔میں نے حضرت خلیفہ المسیح الاول سے یہ مثال سنی ہے کہ جتنا کوئی ان پڑھ ہوتا ہے وہ خط پڑھوانے کی زیادہ کوشش کرتا ہے۔کسی بڑھیا کے پاس اس کے بیٹے کا خط آتا ہے تو وہ ملاں کے پاس جاتی ہے اور اسے کہتی ہے میاں ! میرے بیٹے کا خط پڑھ دو۔وہ خط پڑھ دیتا ہے تو اسے تسلی نہیں ہوتی۔پھر وہ کسی اور کو دیکھتی ہے اور سمجھتی ہے کہ وہ پڑھا ہوا ہے تو وہ اس کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے مجھے میرے بیٹے کا خط سنادو۔اسی طرح جب تک وہ سات آٹھ آدمیوں سے اپنے بیٹے کا خط نہیں سن لیتی اسے تسلی نہیں ہوتی۔پس تم میں سے جتنے بھی ان پڑھ ہیں انہیں دوسروں سے زیادہ ترجمہ سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر کسی چیز کو سیکھنے کی کوشش کی جائے تو وہ ضرور آجاتی ہے۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک بادشاہ کے وزیر تھے۔انہیں علم سیکھنے اور سکھانے کا بہت شوق تھا۔انہوں نے شہر کے لوگوں سے کہا مجھے چالیس لڑکے دے دو اور انہیں بارہ سال تک میرے پاس رہنے دو۔اس کے بعد جو چاہیں کریں۔لوگوں کو ان پر اعتبار تھا۔انہوں نے اپنے لڑکے دے دیئے۔اس بزرگ نے ایک مکان لے لیا اور خود بھی اس میں آگئے اور کچھ استاد رکھ لئے۔ان کا طریق یہ تھا کہ صبح کے وقت اٹھتے اور قرآن کریم بچوں کے سامنے رکھ دیتے اور کہتے تلاوت کرو۔اس کے بعد تہجد پڑھواتے۔پھر صبح کی نماز کا وقت ہو جاتا۔ان سے اذان دلواتے۔اذان اور نماز کے درمیان انہیں قرآن کریم کی ایک آیت بتا دیتے اور کہتے اسے یاد کرلو۔پھر صبح کی نماز پڑھواتے اور نماز کے بعد ایک حدیث یاد کراتے۔اس کے بعد انہیں باہر لے جاتے اور ورزش کرواتے۔جب دھوپ سر پر آجاتی تو انہیں دریا کے کنارے لے جاتے اور انہیں تیراندازی سکھاتے۔جب ورزش اور تیراندازی کر کے واپس آجاتے تو انہیں دو تین چھوٹے چھوٹے اسباق اس رنگ میں دیتے کہ ایک چھوٹا سا مسئلہ نحو کا بتادیا۔ایک چھوٹا سا مسئلہ صرف کا بتا دیا اور کسی بڑے شاعر کا ایک شعر بتا دیا اور اس کی لغت یاد کرادی۔پھر ظہر کا وقت آجاتا۔نماز پڑھواتے اور نماز کے بعد لڑکوں کو کوئی عربی کی ایک ضرب المثل یاد کرا دیتے۔کوئی ایک فقہ کا مسئلہ بتا دیتے یا منطق کا کوئی مسئلہ بتا دیتے۔پھر عصر کی نماز کا وقت آجاتا۔عصر کی نماز پڑھواتے اور اس کے بعد انہیں باہر لے جاتے اور وہاں فنون جنگ کی مہارت کرواتے۔اسی طرح وہ سارا دن انہیں مختلف کام سکھانے میں لگے رہتے۔بارہ سال کے اندر اندر انہوں نے ان لڑکوں کو قرآن و حدیث کا پورا ماہر بنا دیا۔قرآن کریم کا حافظ بنا دیا۔پورا منطقی اور پورا فقیہ بنا دیا اور اس کے ساتھ انہیں پورا سپاہی بھی بنا دیا۔غرض ایک ایک چیز کا روزانہ یاد کر لینا کوئی مشکل بات نہیں۔تو روزانہ چند آیات یاد کر لو تو بڑی آسانی کے ساتھ تھوڑے ہی عرصہ میں سارے قرآن کا ترجمہ پڑھ سکتے ہو۔بعض آیات تو بہت چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں۔اگر انہیں دوسری چھوٹی آیات کے ساتھ ملا کر بڑی آیات کے برابر سمجھ لیا جائے اور اڑھائی تین سطروں کا بھی روزانہ اندازہ رکھا جائے تو بڑی آسانی کے ساتھ تم تین سال کے اندر اندر پورے قرآن کریم کا ترجمہ سیکھ سکتے ہو۔یہ سکیم بچوں میں بھی شروع کرنی چاہئے اور اگر لجنہ اماء اللہ بھی اس سکیم کو اپنالے تو پھر مائیں اپنے بچوں کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا سکتی ہیں۔تم بے شک خادم ہو لیکن اگر تمہیں خدمت کے طریق کا ہی پتہ نہ لگے تو تم کرو گے