مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 536

536 ۲۹ جولائی ۱۹۴۹ء ساڑھے چھ بجے شام مجلس خدام الاحمدیہ کوئٹہ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کرنے کے لئے پارک ہاؤس میں ایک دعوت عصرانہ کا اہتمام کیا جس میں جماعت کے دوستوں کے علاوہ کئی غیر احمدی معززین نے بھی شرکت کی۔اکل و شرب کے بعد اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔تلاوت و نظم کے بعد قائد مجلس نے ایڈریس پیش کرتے ہوئے مجلس کی کارگزاری کی مختصر رپورٹ بھی پیش کی اور حضور سے درخواست کی کہ حضور ممبران مجلس کو اپنی زریں نصائح سے مستفیض فرمائیں۔اس کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔(مرتب) حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایڈریس کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔" قائد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کوئٹہ نے اپنی کارگزاری کی جو رپورٹ پڑھ کر سنائی ہے اس پر مجھے اس لحاظ سے خوشی حاصل ہوئی کہ یہاں کے خدام میں ایک حد تک بیداری پائی جاتی ہے اور وہ اپنے اس نام کی قدر کرتے اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کیا ہے۔سب سے پہلی بات جو ایڈریس کے ساتھ تو تعلق نہیں رکھتی لیکن نہایت اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مختلف قوموں اور زبانوں کے اختلاط سے ایک زبان پیدا ہوئی جس کو اردو کہتے ہیں۔اس زبان کی طرف ہندوستان میں بہت کم توجہ رہ گئی ہے بلکہ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اسے بالکل مٹادیا جائے۔پنجاب کا شہری طبقہ اس کا بہت شائق چلا آتا ہے اور اس میں علامہ اقبال اور حفیظ جالندھری جیسے بڑے بڑے شاعر پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اردو زبان کی بہت خدمت کی ہے اور ان کی وجہ سے ہندوستان اور اس کے باہر اردو زبان بہت مقبول ہو گئی ہے۔مگر پنجاب کے عوام اور غیر تعلیم یافتہ اشخاص ابھی اس سے بہت دور ہیں اور انہیں اس میں کلام کرنا دو بھر معلوم ہو تا ہے۔اگر وہ اس میں بات کریں تو طریق گفتگو غیر زبان دانوں کا سا معلوم ہوتا ہے۔یوں تو غیر مادری زبان میں گفتگو کرتے وقت ہمیشہ ہی مشکلات پیش آتی ہیں اور لازمی طور پر لہجہ میں فرق معلوم ہوتا ہے۔تاہم اگر آپس میں اردو زبان میں ہی گفتگو کی جائے تو اس میں مہارت حاصل کرلینا کوئی مشکل امر نہیں۔مثلاً میری مادری زبان اگر چہ اردو ہے مگر میں نے پنجاب میں پرورش پائی ہے۔اس لئے میں یہ نہیں کہہ سکتا بلکہ یہ کہنالغو ہو گا کہ میرالجہ دہلی والوں کا ساہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ بچپن میں میں اپنی ایک نانی کو ملنے کے لئے گیا۔مشہور مترجم قرآن مرزا حیرت صاحب ان کے بیٹے اور میرے ماموں تھے۔انہیں احمدیت سے حد درجہ کا تعصب تھا مگر بہر حال چونکہ وہ میرے ماموں تھے اس لئے دوسرے رشتہ داروں نے مجھ سے کہا کہ اپنے ماموں مرزا حیرت صاحب کو بھی سلام کر آؤ۔میری عمر اس وقت تیرہ چودہ سال کی تھی۔دہلی والوں کی عادت جیسے پان کی گلوری کپیش کرنے کی ہے اسی کے مطابق میری نانی نے مجھے بھی پان کی گلوری دی۔دہلی میں یہ رواج ہے کہ پان میں چھالیہ زیادہ ڈالتے ہیں۔میں بھی اپنی والدہ صاحبہ