مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 514
514 ہماری آئندہ ترقیوں اور کامیابیوں کا تعلق نوجوانوں کے ایثار سے ہے ہماری آخری جنگ کے دن قریب ہیں اور اس میں ہم اس وقت تک فتح کی امید نہیں کرسکتے جب تک ہمارے نوجوان ہم سے زیادہ ایثار کا نمونہ نہ دکھائیں بلکہ ہم تب بھی فتح کی امید نہیں کر سکتے جب تک ان سے اگلی نسل بھی زیادہ ایثار کا نمونہ نہ دکھائے۔اگر کسی قوم کی کم از کم بارہ نسلیں حقیقی ایثار کا نمونہ نہیں دکھاتیں تو اس قوم کو حقیقی فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت کے تو ابھی بچپن کے دن ہیں۔بڑھاپے کے دن تو ابھی دور ہیں۔ہمارے نوجوانوں نے ہی اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ اخلاص اور ایثار میں ہم سے زیادہ ہوں۔علم دین میں ہم سے زیادہ ہوں۔عبادت کی رغبت میں ہم سے زیادہ ہوں۔جماعت کی آئندہ ترقی کی ذمہ داری ہم پر نہیں، آپ نوجوانوں پر ہے۔اس جنگ میں فتح حاصل کرنا آپ کے ذمہ ہے۔جب تک آپ ہم سے زیادہ قربانی اور ایثار کا نمونہ نہیں دکھاتے احمدیت کو فتح حاصل نہیں ہو سکتی یا یوں کہو کہ احمدیت کو تو فتح حاصل ہو گی مگر آپ اس سے محروم رہ جائیں گے۔۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا نوجوان قربانی کا وہ معیار پیش کریں جسے دیکھ کر لوگ شرمندہ ہوں کریں۔اپنے حوصلوں کو بلند رکھیں اور قربانی اور ایثار کا وہ معیار پیش کریں کہ جسے دیکھ کر پہلے لوگ شرمندہ ہوں۔بجائے اس کے کہ وہ کہیں کہ افسوس تم ہماری اچھی نسل نہیں ہو ، وہ یہ کہیں کہ کاش ہم کو بھی ایسی قربانی کی توفیق ملتی۔یہ وہ معیار ہے جس کو پورا کرنے سے احمدیت غالب آ سکتی ہے"۔(خطبه جمعه فرموده ۲۴ ستمبر ۱۹۴۸ء۔مطبوعہ الفضل ۶ اکتوبر ۱۹۴۸ء)