مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 498
498 اس قسم کا ہے کہ اس کی سمجھ آنی مشکل ہے۔ہماری اصل بنیاد تو کفارہ پر ہے۔جب کفارہ پر بات چیت ہوئی تو اس میں بھی خدا کے فضل سے ہمیں کامیابی ہوئی۔غرض کسی کام کو کرتے وقت اس پر اس کے اندازہ سے زیادہ زور لگایا جائے تو بھی اور کم زور لگایا جائے تو بھی درست نہیں ہو تا۔اگر کوئی شخص قطب مینار کو اپنے کندھے کے زور سے ہلانا چاہے تو وہ پاگل گردانا جائے گا یا اگر کوئی شخص ہمالیہ پہاڑ کو اپنے بوٹ سے ٹھڈے مار رہا ہوں اور اس سے کوئی پوچھے کہ کیا کر رہے ہو تو وہ کہہ دے ہمالیہ کو گرا رہا ہوں تو وہ پاگل ہو گا اور کوئی اس کو عقل مند نہیں کہہ سکے گا۔اللہ تعالی نے انسان کے اندرجتنے جو اس رکھے ہیں ان میں ایک حس موازنہ کی بھی ہے اور اس جس کے ذریعہ ہم کام کے مطابق طاقت کا اندازہ لگاتے ہیں۔حواس خمسہ تو پرانے زمانہ کی اصطلاح ہے جو ابھی تک چلی آ رہی ہے حالانکہ ایک شخص جس کی آنکھیں ناک کان ہاتھ اور زبان بالکل ٹھیک ہوں وہ پاگل بھی ہو جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں اس کے حواس بجا نہیں حالانکہ اس کی آنکھیں سلامت ہوتی ہیں۔کان ٹھیک ہوتے ہیں۔ہاتھ کام کرتے ہیں۔زبان چلتی ہے اور ناک درست ہوتی ہے۔اس وقت اس کو جو پاگل کہا جاتا ہے تو اس کی صرف یہ وجہ ہوتی ہے کہ اس کے موازنہ کی حس ماری گئی ہے اور وہ اپنے حواس خمسہ کے سلامت ہونے پر بھی پاگل کہلاتا ہے۔اب جب کہ علم النفس کے ماہرین نے ترقی کی تو انہوں نے بتایا کہ جو اس پانچ نہیں بلکہ زیادہ ہیں۔ایک حس یہ بھی ہے کہ گرم پانی میں ہاتھ ڈالو تو گرم معلوم ہو اور سرد میں ڈالو تو سرد معلوم ہو۔یہ گرمی اور سردی کی حس ہے۔اس کے علاوہ ایک حس موازنے کی ہوتی ہے یعنی بعض دفعہ کوئی چیز اندھیرے میں پڑی ہوتی ہے تو ممکن ہے انسان اس کو پنسیری سمجھ لے مگر وہ دراصل گوبر ہو۔یہ غلطی کیوں ہوئی۔اندھیرے کی وجہ سے آنکھوں نے نہیں بتایا کہ یہ چیز کتنی وزن دار ہے۔پس حس موازنہ سے انسان کام کے مطابق طاقت کا اندازہ کر سکتا ہے۔مثلا ایک کیلا زمین میں گڑا ہو تو وہ پہلی دفعہ زور لگانے سے نہیں نکل سکتا۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے زمین میں گڑے ہونے سے اس کا موازنہ نہیں ہو سکتا۔اس لئے وہ پہلی دفعہ طاقت لگانے سے نہیں نکلے گا۔دوسری یا تیسری دفعہ نکل آئے گا کیونکہ موازنہ کر چکنے کے بعد تمہارے دماغ نے حکم دیا ہو گا کہ اگر اتنی طاقت لگاؤ گے تو نکال سکو گے۔پس چیزوں کے موازنہ کی حس میں خرابی ہو جانے سے انسان پاگل ہو جاتا ہے یعنی جب وہ وقت کا اندازہ نہ کر سکے یا چیزوں کے وزن کا اندازہ نہ کر سکے یا انسان کی حقیقت کا اندازہ نہ کر سکے یا کڑوی میٹھی چیز میں امتیاز نہ کر سکے۔باقی حواس خمسہ جو عوام میں مشہور ہیں ان میں کوئی خرابی واقع ہونے سے پاگل نہیں ہو سکتا۔مثلا کسی شخص کا ہاتھ کٹ جائے تو وہ پاگل نہیں ہو گا۔کسی کی آنکھ جاتی رہے تو اسے کوئی پاگل نہ کہے گا یا اس کی ناک یا زبان کٹ جائے تو کوئی پاگل نہ کہے گا۔پاگل ایسے شخص کو کہا جائے گا جو فرض کرو ایک بڑے بلند مینار کو انگلی لگا رہا ہوں اور کسی کے سوال کرنے پر وہ کے کہ میں اس مینار کو گرانا چاہتا ہوں یا ایک بڑے تناور درخت کو انگوٹھے سے دبا رہا ہو اور کے کہ میں اس کو گرانا چاہتا ہوں۔پس جس شخص کی موازنہ کی جس میں خرابی ہوا سے ہی لوگ حواس باختہ کہا کرتے ہیں۔مجھے ایک دفعہ ایک ڈاکٹر صاحب ریل کے سفر میں مل گئے۔انہوں نے ذکر کیا کہ میں بارہ سال سے پاگل خانے