مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 469
469 مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ کہ تم میں ہر شخص گڈریا ہے اور اس سے اس کے ریوڑ کے متعلق سوال کیا جائے گا۔جس طرح طالب علموں کے لئے ضروری ہے کہ محنت اور جانفشانی سے کام کریں اور اپنے اندر اعلیٰ قابلیت پیدا کریں اسی طرح اساتذہ پر بھی نہایت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ بھی نہایت محنت اور کوشش کے ساتھ طالب علموں کو پڑھائیں۔ان کی زندگیاں طالب علموں کے لئے وقف ہو جانی چاہئیں۔اساتذہ اور پروفیسر اگر محنت اور دیانتداری سے کام کریں تو جو عزت اور ثواب ان کو حاصل ہو گا وہ غیر فانی ہو گا اور کئی نسلوں تک ان کو یہ ثواب حاصل ہو تا رہے گا اور طالب علموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سکول اور کالج کا نام روشن کریں اور وہ اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے سکول اور کالج کو دوسرے سکولوں اور کالجوں سے ممتاز نہ کرلیں۔اگر ہمارے طالب علم اس طور پر کام کریں تو یہ بات تبلیغ اسلام میں بہت مدد دے گی اور خود بخود باہر کے طالب علم اس طرف کھنچے چلے آئیں گے اور پھر جماعت کی علمی برتری بھی قائم ہو جائے گی۔ہمارے مربیوں اور محصلوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اصل کام کے علاوہ جماعت کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔اصل ثواب تو انہیں ایسے کاموں کا ہی ملے گا۔چندہ کی وصولی تو ان کا فرض ہے جو وہ ادا کر رہے ہیں۔دوسری چیز جس کی طرف میں دوستوں کو آج قرآن مجید کو حفظ کرنانہایت اعلیٰ درجے کی نیکی ہے توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ قرآن کریم حفظ کرنا ہے۔یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے مگر افسوس ہے اس طرف بہت کم توجہ دی جا رہی ہے۔حفاظ دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔قرآن کریم حفظ کرنے کی عادت ڈالنے کے لئے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ کچھ ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو ایک حصہ قرآن کریم کا حفظ کریں اور اس طرح مجموعی طور پر کئی قرآن کریم کے حافظ بن جائیں۔جو دوست اس تحریک میں حصہ لینا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھا دیں۔( اس پر ۲۸۶ احباب نے اپنے نام پیش کئے حضور نے فرمایا ) قرآن کریم کے ۲۸۶ رکوع ترتیب واران میں تقسیم کر دیئے جائیں اس طرح ہفتہ میں نصف قرآن کریم یا د ہو جائے گا۔اگر اس تحریک کو زیادہ بڑھایا جائے تو ممکن ہے کہ ایک ہفتہ میں پورا قرآن کریم حفظ ہو جایا کرے۔اگر اس طرف تھوڑی سی توجہ بھی کی جائے تو چند سالوں میں سینکڑوں حافظ ہو جائیں گے "۔تقریر فرموده ۲۱ جون ۱۹۴۶ء۔مطبوعہ الفضل ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۰ء)