مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 468

468 سکیں گے۔تعلیم یافتہ طبقہ پر غیر زبان جاننے کا بہت اثر ہوتا ہے اور جو شخص دو چار غیر ملکی زبانیں جانتا ہو اس کے متعلق تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ بہت بڑا عالم ہے اسے فلاں فلاں زبان بھی آتی ہے۔رو زیادہ حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک معجزہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے حواری غیر زبانوں میں باتیں کرتے تھے۔اگر ہمارے نوجوان بھی غیر ممالک میں جائیں اور غیر زبانیں سیکھیں تو وہ مسیح ناصری کے حواریوں سے یقیناً بڑھ جائیں اور یہ صورت تبھی پیدا ہو سکتی ہے جب کہ ہماری جماعت میں کثرت سے گریجوایٹ بنیں اور ان سے ہمیں سینکڑوں گریجوایٹ تبلیغ اسلام کے کام کے لئے مل جائیں۔یہ ناممکن بات ہے کہ تمام کے تمام گریجوایٹ تبلیغ اسلام کے لئے باہر چلے جائیں۔بعض کو بعض سرکاری ملازمتوں میں داخل کرانا بھی ضروری ہوتا ہے۔اسی طرح بعض کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ لمبے سفر کر سکیں ، ان کو بھی غیر ممالک میں بھجوایا نہیں جاسکتا۔پھر ہمارے سرے ادارے ہیں ان میں بھی گریجوائیوں کی ضرورت رہتی ہے۔ان ضروریات کے پیش نظر ہمیں زیادہ سے دہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے۔مگر یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کہ ہمارے نوجوان محنت اور ایثار کے ساتھ تعلیم حاصل کریں اور اس جذبہ کو لے کر باہر نکلیں کہ ہم نے تمام دنیا کی خدمت کرنی ہے۔ترقی کرنے والی قوم میں ایڈو سنچرس روح کا ہونا نہایت لازمی بات ہے۔انگریزوں کو دیکھو کہ کس طرح ان کے نوجوانوں کے ایک طبقہ نے اپنی زندگیاں غیر ممالک میں گزار دیں اور ایسے وقتوں میں گزاریں جب کہ ریل ، تار اور ڈاک کا کوئی نظام نہ تھا مگر ان مصائب کو برداشت کرنے کے بعد انہوں نے اپنی قوم کی ترقی کے راستے کھول دیئے۔آج دوسری اقوام انگریزوں کو حسد کی وجہ سے برا بھلا کہتی ہیں کہ انہوں نے ناحق دوسرے ممالک پر قبضہ کر لیا ہے لیکن ان کو کس نے منع کیا تھا کہ وہ اپنے گھروں سے نہ نکلیں اور غیر ممالک پر جا کر قبضہ نہ کریں۔جولوگ تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھا کر کسی چیز کو حاصل کرتے ہیں وہی اس کے مستحق ہوتے ہیں۔اب ہمارے لئے موقعہ ہے کہ ہم باہر نکلیں۔اگر ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اور اعلیٰ قابلیت پیدا کر کے باہر نکلیں اور قربانی اور ایثار کے ساتھ لوگوں کی خدمت کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے ملک کی غیر ممالک میں عزت قائم نہ ہو بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تبلیغ اسلام بھی زیادہ موثر ہو گی۔باوجود اس کے کہ عیسائی مذہب میں کوئی جذب اور کشش کا سامان موجود نہیں پادریوں کی قربانی اور ایثار کی وجہ سے ہزار ہا ہندوستانیوں نے اسے قبول کر لیا تھا۔پس اگر عیسائی اس قدر کامیاب ہو سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ احمدی سچائی کو لے کر نکلیں اور وہ کامیاب نہ ہوں۔ان حالات کو پیدا کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے طالب علم بہت بلند خیال اور عالی حو صلہ ہوں۔وہ سمجھ لیں کہ وہ دنیا میں بہت بڑے کام سرانجام دینے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور انہوں نے دوسرے ممالک کی راہنمائی کرنی ہے اور انہیں اخلاق اور تہذیب سکھانا ہے۔اگر انہیں غربت کی حالت میں بھی دوسرے ممالک کی قیادت اور راہنمائی کا درجہ حاصل ہو جائے تو وہ اس لاکھوں روپیہ سے بہتر ہے جو وہ اپنے ملک میں کما سکتے ہیں۔ہر شخص پر ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔رسول کریم می فرماتے ہیں تكلكم راع ومحتكم