مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 431
431 معائنہ اور مقابلہ کے لئے مقرر کیا جائے اور تمام محلوں کا دورہ کر کے دیکھا جائے کہ کس محلہ کی صفائی سب سے اچھی ہے۔جس محلہ کی صفائی سب سے اچھی ہو اس کے خدام کو کوئی چیز انعام کے طور پر دی جائے تاکہ تمام محلوں میں ایک دوسرے سے مسابقت کی روح پیدا ہو۔اگر اس طرح کام کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ نہایت ہی عمدہ طور پر قادیان کی صفائی کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔ایسے محلے جو بہت گندے ہوں، ان محلوں کے خدام کی پہلے دو سرے محلوں کے خدام مدد کریں اور ایک دفعہ اچھی طرح صفائی کرا دی جائے اس کے بعد وہ خود اس کی صفائی کے ذمہ وار ہوں۔محلوں میں صفائی رکھنا کوئی مشکل بات نہیں۔اگر خدام تھوڑی بہت توجہ صفائی کی طرف رکھیں اور محلوں میں رہنے والے دوسرے لوگ بھی خدام سے تعاون کریں تو یہ بات بہت آسان ہو جاتی ہے۔اس بات کو دل سے نکال دینا چاہئے کہ جب تک محلہ کے تمام خدام کسی کام میں شریک نہیں ہوتے اس وقت تک کسی کام کو شروع ہی نہ کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کام کا موقعہ آئے گا مخلص اور دیانت دار خدام ہی آگے آئیں گے اور وہی شوق سے اسے سرانجام دیں گے اور جو اخلاص اور دیانت داری سے کام کرنا نہیں چاہتا اس کے لئے سو بہانے ہیں۔کہتے ہیں ” من حرامی جھتاں ڈھیر۔" یعنی اگر کام کرنے کو جی نہ چاہتا ہو تو انسان کو سینکڑوں حجتیں اور بہانے سوجھ جاتے ہیں اور یہ حجتوں والے تو سال میں ایک دفعہ بھی وقار عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ایسے لوگوں کے نہ آنے کی وجہ سے کام کو پیچھے نہیں ڈالنا چاہئے۔جن لوگوں کے اندر اخلاص ہے ، ان کو کیوں ایسے لوگوں کی خاطر کام سے روک رکھا جائے۔اب تو تم دو ماہ کے بعد ایک دن وقار عمل کرتے ہو۔اگر تم دس سال کے بعد بھی ایک دن مقرر کرو تو بھی نہ آنے والے غائب ہی ہونگے اور تمہاری حاضری پھر بھی سوفی صدی نہیں ہو گی۔دس سال کے بعد بھی جو دن تم وقار عمل کا مقرر کرو گے وہی دن ایسا ہو گا جس دن ان کو کام ہو گا اور شیطان ان کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کر دے گا کہ آج تو مجھے فلاں کام بہت ضروری ہے۔اگر آج وہ کام نہ کیا تو مجھے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔نو سال گیارہ مہینے اور انتیس دن تک تو انہیں وہ کام یاد نہ آیا لیکن چونکہ تم نے تیسویں دن وقار عمل مقرر کر دیا اس لئے اسے بھی کام یاد آگیا۔دس سال تو کیا اگر سو سال کے بعد بھی ان کو وقار عمل میں شامل ہونے کے لئے کہا جائے تو اس وقت بھی ان کے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ موجود ہو گا۔ایسے لوگوں کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ایسے لوگوں کا نہ آنا زیادہ بہتر ہوتا ہے بہ نسبت ان کے آنے کے۔پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ کتنے آتے ہیں اور کتنے نہیں آتے۔جو آتے ہیں انہیں اپنے ساتھ لے کر کام شروع کر دیں۔اگر ابتداء میں کام کرنے والوں کی تعداد دس یا پندرہ فی صدی ہو تو وہ خود بخود بڑھ جائے گی اور آہستہ آہستہ بڑھتی چلی جائے گی اور آخر وہ دن آجائے گا کہ کام کرنے والوں کی تعداد نانوے فی صدی ہوگی اور نہ کرنے والوں کی تعداد ایک فی صدی ہو گی۔بن سمجھتا ہوں کہ اگر استقلال سے کام کیا جائے تو یہ بات کوئی مشکل نہیں۔اگر دس فیصدی خدام کو بھی ہاتھ سے کام کرنے کی عادت پڑ جائے تو یہ کوئی بات نہیں۔پس کام کو ابتداء میں