مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 411

411 ہو جاۓ اور ہر گزرانے والے سے پوچھے کہ تمہارے پڑدادا کا کیا نام ہے تو مجھے یقین ہے کہ پچاس فیصدی لوگ یہ کہیں گے کہ ہمیں پتہ نہیں۔جب میں خطبہ کے بعد گھر آیا تو مجھے ایک خاتون نے بتایا کہ ہم پانچ عورتیں اکٹھی بیٹھی ہوئی تھیں ، خطبہ کے بعد ہم نے ایک دو سرے سے اس کے پڑدادا کا نام پوچھا تو پانچ میں سے صرف ایک کو پڑدادا کا نام معلوم تھا۔جب اتنی جلدی لوگ اپنے باپ دادوں کا نام بھول جاتے ہیں تو پھر اس دلیل کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے کہ اولاد ہوگی تو ہمارا نام قائم رہے گا۔نام کہاں قائم رہتا ہے ؟ کتنے لوگوں کی اولاد ہے کہ جو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کا ذکر کرتی ہے ؟ ان لوگوں کو دیکھ لو جن کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور سوچو تو سہی کہ وہ کتنی دفعہ اپنے ماں باپ کا ذکر خیر کرتے ہیں؟ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے والدین کو یاد رکھتے ہیں۔تحریک جدید میں حصہ لینے والوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کی طرف سے حصہ لیا ہے مگر یہ لوگ دس فیصدی بھی نہیں بلکہ پانچ فیصدی بھی نہیں۔پانچ فیصدی کے حساب سے پانچ ہزار میں سے اڑھائی سو بنتے ہیں مگر میرے خیال میں تو اڑھائی سو بھی ایسے نہیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کی طرف سے حصہ لیا ہو۔(بعد میں اندازہ لگوایا گیا تو وہ لوگ جنہوں نے اپنے ماں باپ کی طرف سے حصہ لیا ہے صرف دو سو کے قریب ہیں)۔تو ماں باپ کا تعلق بالکل قریب کا تعلق ہے مگر لوگ ان کو بھی یاد نہیں رکھتے۔ماں باپ کس طرح تکلیف اٹھا کر اور اپنی ضرورت کو پیچھے ڈال کو بچوں کی پرورش کرتے اور ان کو پڑھاتے لکھاتے ہیں لیکن وہی بچے جب بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے والدین پر ایک پیسہ خرچ کرنے میں بھی دریغ محسوس کرتے ہیں۔میرے پاس کئی ایسے جھگڑے آتے ہیں اور ماں باپ آکر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہم ضعیف ہو گئے ہیں اور ہمارے لڑکے ہماری خدمت نہیں کرتے۔جب لڑکوں سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں تنخواہ تھوڑی ہے۔دو اڑھائی سو روپیہ تو ملتا ہے۔مشکل سے اپنا گزارہ ہوتا ہے۔ان کی خدمت کہاں سے کریں؟ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے ماں باپ کا گزارہ ان سے بھی کم تھا لیکن اس کے باوجود ان پر خرچ کرتے تھے۔غرض ہر نسل کی نظر آگے کی طرف جارہی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کے اندر اولاد کی خواہش کا مادہ اس لئے رکھا ہے تاکہ بنی نوع انسان کے تسلسل کو جاری رکھیں۔اگر یہ خواہش نہ ہوتی تو دنیا کے واقعات کو دیکھ کر اکثر ماں باپ اولاد پیدا کرنے کے مخالف ہوتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ماں باپ مصیبتیں اٹھاتے ہیں، دکھ سہتے ہیں ، بھوکے رہتے ہیں۔بچہ جننے کی وجہ سے ماؤں کو ہزاروں قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہیں۔پھر بھی ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ بچے ہو جائیں۔بچوں سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا سوائے نیک اور وفاشعار اولاد کے۔پھر بھی چھ چھ سات سات بچے ہونے پر بھی اگر درمیان میں وقفہ پڑ جائے تو عورتیں کہتی ہیں مدت سے بچہ نہیں ہوا۔ایک بچہ اور ہو جائے۔ساری عمر عورت کا خون اولاد کے پیدا کرنے سے بہتا چلا جاتا ہے مگر وہ پرواہ نہیں کرتی۔کئی عورتیں منہ سے تو کہتی ہیں کہ ہمیں اولاد کی خواہش نہیں مگر ان کی باتوں سے عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ صرف شرم و حیا کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہیں ورنہ ان کا دل اولاد نہ ہونے کی وجہ سے زخمی ہوتا ہے۔پس اولاد کی خواہش ایک طبعی خواہش ہے اور یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے اس کے پیچھے جو جذ بہ خداتعالی نے رکھا ہے وہ یہی ہے کہ نسل انسانی قائم رہے گو انسان اس کو شکل یہ دیتا ہے کہ نام قائم رہے اور گو نام بھی کچھ مدت تک قائم رہتا ہے۔باپ کا نام بیٹے نے یاد رکھا یا دادا کا نام پوتے نے یاد رکھا اور بعض خاندانوں میں چار چار پانچ پانچ پشت تک بھی نام قائم رہتا ہے لیکن بعض جگہ نام بالکل قائم نہیں رہتا۔بیٹے باپ کا نام لینا اور یہ کہنا کہ ہمارے باپ کا یہ نام تھا پسند نہیں کرتے بلکہ وہ جگہیں چھوڑ دیتے ہیں جہاں ان کے باپ نے غربت میں زندگی گزاری ہو کیونکہ اس جگہ رہنا وہ ہتک سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی ہندو کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ اس نے مصیبت اٹھا کر اور تکلیف برداشت کر کے اپنے لڑکے کو پڑھایا لکھایا اور اسے گریجویٹ کرایا۔اس وقت گریجویٹ ہونا بھی بڑی بات تھی۔اس لئے وہ ای۔اے۔سی ہو گیا۔باپ اس بات کو سن کر کہ میرا ، :