مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 410
410 خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ مشورہ دیں کہ آئندہ نسلوں میں قربانی محنت اور کام بروقت کرنے کی روح کس طرح پیدا کی جائے؟ ” میں نے بار بار جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ قومیں اگلی نسل سے بنا کرتی ہیں۔کوئی قوم اپنی زندگی کا اعتبار نہیں کر سکتی اگر اس کی اگلی نسل کار آمد ، نیک اور محنتی نہ ہو۔جب کبھی قوم پر زوال آتا ہے تو آئندہ نسلوں سے آتا ہے اور جب بھی ترقی ہوتی ہے تو وہ بھی آئندہ نسلوں سے ہوتی ہے۔دوام بخشنے والی چیز اولاد ہی ہے۔اگر اولا د انسان کو حاصل ہوتی ہے تو اس خاندان کا نام رہتا ہے اور اگر اچھی اولاد حاصل ہوتی ہے تو اس کے مذہب اور اس کی قوم کا نام رہتا ہے۔اللہ تعالٰی نے جو انسان کے اند ر اولاد کی خواہش رکھی ہے ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالٰی بنی نوع انسان کو دوام بخشنا چاہتا ہے۔ہر ماں اور ہر باپ ایک لڑکے یا لڑکی کی جستجو میں رہتے ہیں۔جن گھروں میں اولاد نہیں ہوتی ، باپ بھی اور مائیں بھی سخت غمزدہ ہوتی ہیں۔کبھی طبیبوں سے علاج کراتے ہیں ، کبھی دائیوں سے مشورے لیتے ہیں، کبھی دعائیں کرتے اور دعا ئیں کراتے ہیں کہ ہمارے ہاں اولاد نہیں اولاد ہو جائے حالانکہ اولاد کیا فائدہ پہنچاتی ہے ؟ کچھ بھی نہیں۔ہزاروں ہزار انسان دنیا میں ایسے ہیں پچاس، ساٹھ یا ستر فیصد ی نہیں بلکہ نوے فیصدی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی اولاد سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔اگر تو نوے فیصدی لوگ ایسے ہوتے کہ ان کی اولاد انہیں فائدہ پہنچاتی اور ان کی خبر گیری کرتی تو ہم سمجھتے کہ اولاد کی خواہش انسان کے اندر اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اولاد سے فائدہ اٹھائے۔مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ ادھر اولاد جوان ہوتی ہے اور ادھر وہ بیوی بچوں کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔سینکڑوں بوڑھے میرے ذاتی علم میں اس بات کے محتاج تھے کہ ان کی خبر گیری کی جاتی مگر ان کے لڑکوں یا لڑکیوں نے ان کی طرف توجہ نہیں کی کیونکہ وہ لڑکیاں اپنے خاوندوں یا لڑ کے اپنی بیویوں کے چونچلوں میں مشغول ہو گئے۔یہ نظارہ عام طور پر دنیا میں نظر آتا ہے کہ گھروں میں ماں باپ کی قدر نہیں کی جاتی گو بعض قدر کرنے والے بھی ہوتے ہیں مگر وہ خدمت سے قاصر رہتے ہیں۔ادھر وہ جوان ہوئے اور ادھر ان کے ماں باپ دنیا سے چل بسے۔تو جب بالعموم یہ بات دنیا میں نظر آتی ہے تو ان حالات میں یہ شدید خواہش جو انسان کے دل میں اولاد کے متعلق پائی جاتی ہے وہ دماغی تاثرات کا نتیجہ نہیں قرار پا سکتی بلکہ معلوم ہو تا ہے ، محض طبعی خواہش ہے کہ وہ عقلی خواہش کی بنیاد ہمیشہ دلیل اور تجربہ پر ہوتی ہے لیکن طبعی خواہش کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہوتی۔پس جب دنیا میں اس بات کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی تو معلوم ہوا کہ یہ طبعی خواہش ہے جو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں تسلسل قائم رکھنے کے لئے رکھی ہوئی ہے۔کہتے ہیں کہ اولاد سے نام قائم رہتا ہے مگر نام کے لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو کہاں قائم رہتا ہے۔کوئی پوچھے کہ تمہارے پڑدادا کا نام کیا ہے تو کہہ دیتے ہیں پتہ نہیں حالانکہ پڑدادا قریب کی چیز ہے۔پڑدادا کے معنی ہیں باپ کا دا دا۔تو دنیا میں ہزاروں لاکھوں آدمی ایسے ہیں جو اپنے پڑدادا کا نام نہیں جانتے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی اس مسجد کے دروازہ پر کھڑا