مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 389

389 تعلیم کو اچھی طرح سمجھ لیں تو ان کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں رہ سکتی کیونکہ اسلام حاوی ہے تمام اعلیٰ تعلیموں پر اور جو شخص اسلام کی تعلیم سے مکمل طور پر آگاہ ہو اسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ اس نے دنیا سے کیا کہنا ہے۔پس اصل چیز اسلام ہی ہے اگر ہم اس کا نام احمدیت رکھتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ احمدیت اسلام کے علاوہ کوئی اور چیز ہے بلکہ اسلام کا نام ہم احمدیت اس لئے رکھتے ہیں کہ لوگوں نے اسلام کو ایک غلط رنگ دے دیا تھا اور ضروری تھا کہ اسلام کے غلط مفہوم کو واضح کرنے اور اسلام کی حقیقت کو روشن کرنے کے لئے کوئی امتیازی نشان قائم کیا جاتا اور وہ امتیازی نشان احمدیت کے نام کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے ورنہ اسلام کا ایک شعفہ بھی ایسا نہیں جسے کوئی شخص بدل سکے بلکہ ایک شععہ تو کیا ایک زبر اور زیر بھی ایسی نہیں جو تبدیل کی جاسکے۔قرآن و حدیث سے روگردانی کفر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ فرمایاوہ سب کا سب خدا کے کلام سے ماخوذ ہے بلکہ نہ صرف آپ نے جو کچھ کہاوہ قرآن اور حدیث سے ماخوذ ہے بلکہ آپ نے جو کچھ کہا وہ قرآن کریم میں موجود ہے اور وہی کچھ کہا جو حدیث میں موجود ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اگر قرآن اور احادیث میں بیان کردہ اسلامی تعلیم سے الگ ہو کر ایک شعفہ بھی بیان کیا جائے بلکہ ایک زبر اور زیر کا بھی اضافہ کیا جائے تو وہ یقینا کفر ہو گا‘ الحاد ہو گا اور اس کی اشاعت سے دنیا میں میں علم نہیں پھیلے گا بلکہ جہالت اور بے دینی میں ترقی ہو گی۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآنی تعلیم کو سمجھیں اور اس کو اپنے دلوں اور دماغوں میں پوری مضبوطی سے قائم کریں۔قرآن کریم باترجمہ جاننے کی تلقین میں نے کہا تھا کہ ہر احمدی نوجوان کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو۔اصل میں تو یہ ہر احمد کی نوجوان کا فرض ہے کہ وہ عربی جانتا ہو لیکن کم سے کم اتنا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کریم میں کیا لکھا ہے اور خدا ہم سے کن باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔عربی جاننے سے یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کا مفہوم سمجھنے کی منزلیں جلد طے ہو جاتی ہیں لیکن اگر کوئی شخص زیادہ عربی نہ جانتا ہو تو اسے کم سے کم اتنی عربی تو ضرور آنی چاہئے کہ قرآن کریم کے ترجمہ کو وہ سمجھ سکے۔میں نے ۱۹۴۲ء کے اجتماع کے موقعہ پر سوال کیا تھا کہ کتنے خدام ہیں جنہیں قرآن کا سارا ترجمہ آتا ہے اُس وقت سات آٹھ سو میں سے قادیان کے خدام میں سے ۱۵۲ اور بیرونی خدام میں سے ۳۲ کھڑے ہوئے تھے (الفضل ۸ نومبر ۱۹۴۲ء) اب میں دو سال کے بعد پھر یہی سوال کرتا ہوں۔میرے اس سوال کے مہمان مخاطب نہیں بلکہ صرف خدام اور اطفال مخاطب ہیں۔جو خدام اور اطفال اس وقت پہرے پر یا کسی ڈیوٹی پر مقرر ہیں وہ بیٹھ جائیں تاکہ تعداد شمار کرنے میں کوئی غلطی نہ ہو ( حضور کے