مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 357
357 سلسلہ کی اغراض کے لئے بشاشت سے روپیہ دینے سے روپے میں برکت پڑتی ہے ۲۶ نومبر ۱۹۴۳ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تحریک جدید کے دسویں سال کے چندہ کی تحریک فرماتے ہوئے ایک پر معارف خطبہ ارشاد فرمایا جس میں جماعت کو اس طرح توجہ دلائی کہ تحریک جدید میں حصہ لینے والے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو پانچ ہزار سپاہی دئیے جانے کی خبر دی گئی تھی۔اس ضمن میں حضور نے خدام الاحمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ وقت کی قربانی کرتے ہوئے لوگوں کو تحریک جدید میں حصہ لینے کی تلقین کریں۔خدام الاحمدیہ سے متعلق اقتباس ذیل میں درج کیا جا رہا ہے۔(مرتب) ئیں امید کرتا ہوں کہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ یہ دونوں اپنے وقت کی قربانی کر کے زیادہ سے زیادہ کانوں تک اس آواز کو پہنچانے کی کوشش کریں گے اور اس غرض کے لئے خاص طور پر جلسے منعقد کر کے لوگوں کو تحریک کرینگے کہ وہ اس چندہ میں حصہ لیں۔اس طرح وہ ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دیں جو ہر احمدی تک یہ آواز پہنچا دیں اور اسے دین کے اس خدمت میں حصہ لینے کی تحریک کریں مگر جبر سے نہیں زور سے نہیں، محبت اور اخلاق سے تحریک کرو اور کسی کو اس میں شامل ہونے کیلئے مجبور مت کرو جو شخص محبت اور اخلاص سے اس تحریک میں حصہ لیتا ہے وہ خود بھی بابرکت ہے اور اس کے روپیہ میں بھی برکت ہو گی لیکن وہ جو مجبوری سے اور کسی کے زور دینے پر اس تحریک میں حصہ لیتا ہے اس کے دیے ہوئے رو پیہ میں کبھی برکت نہیں ہو سکتی۔پس کسی کو جبرا اس تحریک میں شامل کر کے اس برکت کو کم مت کرو بلکہ اگر تمہیں ایسار و پیہ ملتا بھی ہے تو اسے دور پھینک دو کہ وہ ہمارے لئے نہیں بلکہ شیطان کے لئے ہے۔ہمارے لئے وہی روپیہ ہو سکتا ہے جو خدا کے لئے دیا جائے اور جسے ہم خدا کے سامنے پیش کرنے میں فخر محسوس کر سکیں“۔(الفضل یکم دسمبر ۱۹۴۳ء)