مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 318
318 ایک دن وہ بازار میں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے بعض غلام صحابہ کو دیکھا کہ ان کے پاؤں میں رسیاں بندھی ہوئی ہیں۔لڑکے انہیں پتھروں پر گھسیٹ رہے ہیں۔انہیں مارتے جارہے ہیں اور کہتے ہیں تم کہولات اور عزی بھی اپنے اندر خدائی صفات رکھتے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نعوذ باللہ جھوٹے ہیں مگر وہ اس کے جواب میں یہی کہتے اشهد ان لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشْهَدَانْ مُحَمَّدَ اعْبُدَهُ وَرَسُولَهُ عثمان نے جب ان کی یہ قربانی دیکھی تو اسی وقت واپس لوٹے اور اس رئیس سے جاکر کہنے لگے کہ اپنی پناہ واپس لے لو۔اس نے کہا کیوں؟ کیا تمہار ا دماغ پھر گیا ہے۔میں نے اگر پناہ واپس لے لی تو تمہیں سخت تکلیف پہنچے گی۔وہ کہنے لگے ہاں یہ مجھے معلوم ہے۔مگر میں نے آج اپنے بھائیوں کو اس اس طرح مظالم کا شکار ہوتے دیکھا ہے اور میری غیرت اس امر کو برداشت نہیں کر سکتی کہ میں تو تمہاری پناہ میں رہوں اور وہ لوگ تکلیفیں اٹھائیں۔جوان کا حال ہے وہی میں اپنے لئے پسند کرتا ہوں۔چنانچہ اس نے پھر خانہ کعبہ کی مسجد میں جاکر اعلان کر دیا کہ اے لوگو ! میں نے عثمان سے اپنی پناہ واپس لے لی ہے۔اب میں اس کا ذمہ وار نہیں ہوں۔کچھ دنوں کے بعد حج کا موسم آیا اور عرب میں یہ قاعدہ تھا کہ حج کے موقعہ پر مکہ میں بڑے بڑے خطیب اور شعراء اکٹھے ہوتے جو لیکچر دیتے اور اشعار سناتے۔عرب کے ایک مشہور شاعر لبید گزرے ہیں۔جنہوں نے بعد میں اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔وہ اس موقع پر ایک بہت بڑی مجلس میں اپنا قصیدہ سنارہے تھے اور تمام رؤسا واہ واہ کہہ رہے تھے۔لبید اس زمانہ میں عرب کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے تھے۔شعر سناتے سناتے انہوں نے ایک مصرع یہ پڑھا: الَّا كُلُّ شَيْىٰ مَا خَلَا اللَّدْ بَاطِلُ یعنی سنو اخد اتعالیٰ کے سواد نیا کی سب چیزیں فانی ہیں۔انہوں نے یہ مصرع پڑھا تو حضرت عثمان کہنے لگے واد و اد کیا اچھا مصرع کہا ہے۔تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔کیونکہ اس مصرع میں توحید کا مضمون پایا جاتا تھا وہ تصدیق کرنے سے رک نہ سکے۔لبید یہ سنتے ہی بگڑ گئے اور انہوں نے کہا اے مکہ کے لوگو! کیا تم میں اب کوئی ادب باقی نہیں رہا۔میں بڑی عمر کا آدمی ہوں۔اسی نوے سال میری عمر ہو چکی ہے۔سارا عرب میرے اشعار کو اپنے سر اور آنکھوں پر رکھتا ہے اور میرا کلام اپنے اندر ایسے محاسن اور عمتیں رکھتا ہے کہ سب لوگ اس کی قدر کرتے ہیں۔ایسی صورت میں کیا تم سمجھتے ہو میرے کلام کو درست قرار دینے کے لئے ایک انیس سالہ لڑکے کا دار دینا کوئی وقعت رکھتا ہے اور کیا وہ اگر میرے شعر کو درست قرار دے گا تو وہ درست ہو گا اور اگر وہ ٹھیک نہیں کہے گا تو وہ ٹھیک نہیں ہو گا۔اس لڑکے کا میرے اس مصرع کے متعلق یہ کہنا کہ یہ ٹھیک ہے یہ بھی میری ہتک ہے۔میرے شعر اس چھوٹے سے لڑکے کی تصدیق کے محتاج نہیں ہیں۔چنانچہ سب نے اسے ڈانٹنا شروع کیا کہ لڑکے! آرام سے شعر سن۔درمیان میں تو کیوں بولتا ہے۔وہ خاموش ہو گئے۔اس کے بعد پھر اس نے اگلا مصرع پڑھا کہ : وَ كُلِّ نَعِيمِ لَا مَحالَهُ رَائِلَ اور ہر ایک نعمت یقیناً آخر تباہ ہو جائے گی۔اب پھر عثمان بول پڑے اور کہنے لگے یہ بالکل جھوٹ ہے۔جنت ہمیشہ