مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 317

317 کی زندگی میں مسلمانوں کا وہم اور خیال بھی اس طرف نہیں جاسکتا تھا۔پھر ابو جہل کے متعلق ان میں سے کوئی شخص یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس طرح لڑائی کے میدان میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا جائے گا اور اسے مارنے والے مدینہ کے دو چھوٹے چھوٹے لڑکے ہوں گے۔مگر تیرہ سال ظلم سہنے کے بعد ایک چھوٹی سی جماعت میں اتنا جوش پیدا ہو گیا کہ انہوں اپنے دشمن کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور وہی لوگ جو ذلیل سمجھے جاتے تھے دنیا میں عزت کے ساتھ دیکھے جانے لگے۔اس کی آخر کیا وجہ تھی۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے قربانیاں کیں اور اللہ تعالٰی کی راہ میں کسی قسم کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہ کیا۔وہ خدا کے نام کی عزت کے لئے مرگئے اور جب انہوں نے خدا کے نام کی عزت کے لئے مرنا قبول کر لیا تو خدا نے کہا کہ اب میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ تمہیں ذلیل اور رسوا ہونے دوں۔وہ سب کے سب کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ہر قسم کی موت خوشی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا ہم خدا کے لئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہم خدا کے لئے ہر قسم کی ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہم خدا کے لئے ہر قسم کی موت برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔تب خدا نے کہا اب میری غیرت بھی برداشت نہیں کر سکتی کہ میں تمہیں ذلت اور رسوائی سے مرنے دوں۔میں تمہیں زندہ رکھوں گا اور عزت سے زندہ رکھوں گا۔کیا ہی خوشی کا مقام ہو تا تھا ان کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں کسی تکلیف کا برداشت کرنا اور کس مسرت سے وہ ان مصائب کو برداشت کیا کرتے تھے۔اس کے لئے حضرت عثمان بن مطعون کا ایک واقعہ نہایت ہی دردناک اور ایمان افروز ہے۔میں نے یہ واقعہ پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے جو اس امر کو واضح کرتا ہے کہ وہ لوگ خدا تعالی کی راہ میں کس خوشی سے تکالیف برداشت کیا کرتے تھے۔حضرت عثمان بن مظعون ایک بہت بڑے رئیس کے لڑکے تھے۔ان کا باپ بچپن میں فوت ہو گیا تھا اور وہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ مسلمان ہو گئے۔مکہ میں جس طرح اور مسلمانوں پر ظلم کئے جاتے تھے اسی طرح عثمان بن مطعون کو بھی مختلف مظالم کا تختہ مشق بنایا جا تا تھا۔آخر ایک دفعہ انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جائیں۔چنانچہ وہ اس ارادہ سے جارہے تھے کہ انہیں ایک رئیس نے دیکھ لیا جو ان کے باپ کا دوست تھا۔اس نے ان سے پوچھا کہ عثمان کہاں کی تیاریاں ہیں۔انہوں نے کہا مکہ والوں کے ظلم سے تنگ آکر میں حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جا رہا ہوں۔وہ رئیس چونکہ ان کے باپ کا دوست تھا۔اس لئے کہنے لگا عثمان میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ تو مکہ چھوڑ کر چلا جائے۔میں تیرے باپ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔تو آج سے میری پناہ میں آجا۔تجھے مکہ والے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔عربوں میں دستور تھا کہ جب ان میں سے کوئی شخص کسی کو اپنی پناہ میں لے لیتا تو پھر اس پر کوئی شخص ہاتھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔عام طور پر دستور یہ تھا کہ خانہ کعبہ کی مسجد میں جا کر اعلان کر دیا جاتا کہ میں فلاں کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔اس دستور کے مطابق وہ بھی خانہ کعبہ کی مسجد میں گیا اور اس نے اعلان کر دیا کہ عثمان آج سے میری پناہ میں ہے۔چنانچہ اس کے بعد وہ آرام سے زندگی بسر کرنے لگے اور کسی کو یہ جرات نہیں ہوتی تھی کہ ان پر ہاتھ اٹھائے۔