مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 296

296 میں اور نماز میں اللہ تعالٰی کی شکل نہیں دیکھی تھی۔اگر اس نے اللہ تعالٰی شکل دیکھی ہوتی تو وہ اس کے فریب میں نہ آتا۔دنیا میں تم نے جس شخص کو اچھی طرح دیکھا ہوا ہوتا ہے تم اس کے متعلق کسی فریب میں نہیں آسکتے اور اگر دھو کہ کے طور پر کسی اور شخص کے متعلق تمہیں کوئی کہے کہ فلاں شخص ہے تو تم فورا کہہ دیتے ہو کہ میں اسے خوب جانتا ہوں یہ شخص وہ نہیں کوئی اور ہے۔اسی طرح نماز ایک تصویر ہے جسے ہر مسلمان کے سامنے دن رات میں پانچ دفعہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس تصویر کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے۔پس در حقیقت نماز ایک تصویر یا ایک چھلکے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اور تصویر اور اصل میں گو ظاہری لحاظ سے مشابہت ہوتی ہے مگر حقیقی خواص میں مشابہت نہیں ہوتی۔رستم کی تصویر ہو تو اسے ایک بچہ بھی پھاڑ سکتا ہے مگر رستم کو پہلوان بھی گرا نہیں سکتا۔اسی طرح شیر کی تصویر ہو تو اسے ایک چوہا بھی کھا سکتا ہے مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ اصل شیر کو چو ہاکھا سکتا ہے۔پس تصویر اور اصل میں صرف ظاہری طور پر مشابہت پائی جاتی ہے حقیقی پر نہیں۔اس لئے نماز بوجہ تصویر ہونے کے صرف ایک ظاہر ہے، باطن اس کا اور ہے اور وہ باطن اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا قرب ہے یعنی انسان اللہ تعالٰی کی محبت میں اس قدر ترقی کرے کہ اسے اپنی روحانی آنکھوں سے خدا تعالیٰ نظر آنے لگ جائے یا کم سے کم اس کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جائے کہ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ عبادت کیا ہے؟ عبادت یہ ہے کہ تو ایسا سمجھے کہ گویا خدا تجھ کو نظر آ رہا ہے اور اگر تجھے یہ مقام میسر نہیں تو تیرے اند ر کم سے کم یہ یقین ہونا چاہئے کہ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔یہ کیفیت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بتائی کہ نماز پڑھتے وقت کم سے کم تمہیں یقین ہونا چاہئے کہ تمہارا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے یہ تصویری زبان میں پہلا روحانی قدم ہے جو اٹھنا چاہئے کہ ہر شخص کم سے کم ایسے مقام پر ہو کہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہو تو ا سے یقین ہو کہ کوئی خدا ہے جو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر واقعہ میں کوئی رب ہے۔رحمن ہے۔رحیم ہے۔مالک یوم الدین ہے۔تمام عبادات کا مستحق ہے۔اعلیٰ ہے۔سبحان ہے۔اکبر ہے تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ہم اس کی نظروں سے اوجھل ہیں۔پس جب وہ تصویری زبان میں نماز پڑھ رہا ہو تو کم سے کم اس کے دل میں اس بات پر پختہ یقین ہونا چاہئے کہ اس کا خدا اسے دیکھ رہا ہے۔اس کے بعد جب محبت الہی میں بڑھتے بڑھتے وہ اللہ تعالی کی یاد میں منہمک ہو جاتا ہے اس کا ذکر اس کی غذا بن جاتا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے عشق سے بھر جاتا ہے تو اس وقت خدا اس کے سامنے آجاتا ہے اور اس وقت وہ صرف اس یقین پر نہیں ہو تاکہ خدا اسے دیکھ رہا ہے بلکہ وہ خود خدا کو دیکھنے لگ جاتا ہے۔بہر حال نماز کی صورت ایک قشر کی سی ہے۔اگر کوئی شخص اس پر بس کرلے اور سمجھ لے کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ رکوع میں چلا گیا ہوں یا میں نے خدا تعالٰی کو سجدہ کر لیا ہے یا اس کے حضور کھڑے ہو کر ہاتھ باندھ لئے ہیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ اصل حقیقت کی تلاش نہیں کر رہا، قشر پر ہی خوش ہو گیا ہے۔