مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 271

271 غیبت یہ ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کا کوئی سچا عیب اس کی عدم غیبت سے بچنا نہایت ضروری ہے موجودگی میں بیان کرو۔یہ بھی منع ہے اور اسلام نے اس سے تختی کے ساتھ روکا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ محمد لی لی نے اس بات کو ساڑھے تیرہ سو سال سے حل کر دیا ہے اور قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے۔اگر اب بھی کوئی غیبت کر رہا ہو اور اسے کہا جائے کہ تم غیبت مت کرو تو وہ جھٹ کہہ دے گا کہ میں غیبت تو نہیں کر رہا۔میں تو بالکل سچا واقعہ بیان کر رہا ہوں۔حالانکہ ساڑھے تیرہ سو سال گذرے رسول کریم میں یہ فیصلہ سنا چکے اور علی الاعلان اس کا اظہار فرما چکے ہیں۔مگر اب بھی اگر کسی کو روکو تو وہ کہہ دے گا کہ یہ غیبت نہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے۔حالانکہ کسی کا اس کی عدم موجودگی میں سچا عیب بیان کرنا ہی غیبت ہے اور اگر وہ جھوٹ ہے تو تم غیبت کرنے والے نہیں بلکہ مفتری اور کذاب ہو۔یہ چیزیں ہیں جن کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مگر بوجہ اس کے کہ بار بار ان کے الفاظ کانوں میں پڑتے رہتے ہیں لوگ حقیقت معلوم کرنے کی جستجو نہیں کرتے۔پس ان باتوں پر بار بار زور دو اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ جب تک یہ جسم مکمل نہیں ہو گا اس وقت تک مذہب کی روح بھی قائم نہیں رہ سکتی۔گویا ایمان ایک روح ہے اور اخلاق فاضلہ اس روح کا جسم ہیں۔پس میں تحریک جدید کے تمام کارکنوں اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نو جوانوں میں ان باتوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔سپرنٹنڈنٹ کو چاہئے کہ وہ بچوں کے کانوں میں یہ باتیں بار بار ڈالیں اور ماں باپ کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو ان باتوں پر پختگی کے ساتھ قائم کریں اور کوشش کریں کہ ان میں جھوٹ کی عادت نہ ہو۔غیبت کی عادت نہ ہو۔چغل خوری کی عادت نہ ہو۔ظلم کی عادت نہ ہو۔دھوکہ اور فریب کی عادت نہ ہو۔غرض جس قدر اخلاق ہیں وہ ان میں پیدا ہو جائیں اور جس قدر بدیاں ہیں ان سے وہ بچ جائیں تا کہ وہ قوم کا ایک مفید جسم بن سکیں۔اگر ان میں یہ بات نہیں تو وفات مسیح پر لیکچر دینا یا منہ سے احمدیت زندہ باد کے نعرے لگاتے رہنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ کوئی روح بغیر جسم کے نہیں رہ سکتی اور کوئی جسم بغیر روح کے مفید کام نہیں کر سکتا۔جسم کی مثال ایک پیالے کی سی ہے اور روح کی مثال دودھ کی ہی۔جس طرح دودھ بغیر پیالہ کے زمین پر گر جاتا ہے۔اسی طرح اگر اخلاق فاضلہ کا جسم تیار نہیں ہو گا تو تمہارے لیکچر اور تمہاری تمام تقریر میں زمین پر گر کر مٹی میں دھنس جائیں گی۔لیکن اگر اخلاق فاضلہ کا پیالہ تم ان کے دلوں میں رکھ دو گے تو پھر وعظ بھی انہیں فائدہ دے گا اور تقریریں بھی ان میں نیک تغیر پیدا کر دیں گی۔" خطبه جمعه فرموده ۲۸ فروری ۱۹۴۱ء مطبوعه الفضل ۱۴ مارچ ۱۹۴۱ء)