مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 267

267 سیلون میں بھی دولت دکھائی دیتی ہے۔افغانی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے مگر انگریزوں کو افغانستان میں بھی دولت دکھائی دیتی ہے۔پھر عرب جیسے سنگلاخ خطہ اور اس کے جنگلوں میں بھی انگریزوں کو دولت دکھائی دیتی ہے۔مصر جیسی وادی میں بھی انہیں دولت دکھائی دیتی ہے۔چین جاتے ہیں تو وہاں دولت کمانے لگ جاتے ہیں۔مگر چینی کہتے ہیں ہمیں کچھ نہیں ملتا۔تو یہ انگریزوں کی نظر کی تیزی اخلاق فاضلہ سے حاصل ہوتی ہے نظر کی تیزی کا ثبوت ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں انہیں دولت دکھائی دینے لگ جاتی ہے اور یہ نظر کی تیزی اخلاق فاضلہ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔اگر کسی قوم میں اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں تو اس کے افراد کی نظر اسی طرح تیز ہو جاتی ہے۔غرض قربانی اور ایثار کا مادہ ایسی چیز ہے جو انسان کی ہمت کو بڑھاتا ہے۔اور سچ بولنا ایک ایسا وصف ہے جو انسان کا اعتبار قائم کرتا ہے اور محنت کی عادت ایک ایسی چیز ہے جو کام کو وسعت دیتی ہے اور جب کسی شخص میں یہ اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں تو ایسا آدمی ہر جگہ مفید کام کر سکتا اور ہر شعبہ میں ترقی حاصل کر سکتا ہے۔پس میں تحریک جدید کے کارکنوں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سچ بولنے کی اہمیت یہ امر طالب علموں کے ذہن نشین کرتے رہیں کہ انہیں ہمیشہ سچائی سے کام لینا چاہئے اور محنت کی عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور اس امر کو ان کے اتنا ذہن نشین کریں کہ یہ امران کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے کہ ان باتوں کو چھوڑنا ایسا ہی ہے جیسے طاعون میں گرفتار ہونا۔آخر وجہ کیا ہے کہ ایک چور مل جاتا ہے تو وہ دوسرے کے دل میں چوری کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ایک جھوٹا اور کذاب انسان مل جاتا ہے تو وہ دوسرے کو جھوٹ اور کذب بیانی کی عادت ڈال دیتا ہے۔ایک ست اور غافل انسان کسی دوسرے کے پاس رہتا ہے تو اسے بھی اپنی طرح ست اور غافل بنا دیتا ہے۔اگر ان بدیوں کے مرتکب اثر پیدا کر لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ کارکنوں کے دلوں میں سوز و گذار پیدا ہو جائے اور وہ اخلاق کی اہمیت کو سمجھ جائیں تو بچوں میں سچ بولنے کی عادت پیدا نہ کر سکیں۔ان میں محنت کی عادت پیدا نہ کر سکیں اور کیوں بچے ان اخلاق فاضلہ سے دوری کو ایک عذاب نہ سمجھنے لگیں۔اگر متواتر طالب علموں کو بتایا جائے کہ جھوٹ بولنا ایک عذاب ہے اور ایسا ہی ہے جیسا طاعون یا ہیضہ میں مبتلا ہو جانا۔اگر متواتر طالب علموں کو بتایا جائے کہ سستی اور غفلت ایک عذاب ہے اور ایسا ہی ہے جیسے طاعون یا ہیضہ میں گرفتار ہو جانا یا بھڑکتی ہوئی آگ میں گر جانا۔اسی طرح تمام اخلاق فاضلہ ان کے ذہن نشین کرائے جائیں تو کیا وجہ ہے کہ ان میں بیداری پیدا نہ ہو اور وہ صحیح اسلامی اخلاق کا نمونہ نہ بنیں۔مگر اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ طالب علموں کے سامنے متواتر لیکچر دیئے جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ جھوٹ کیا ہو تا ہے۔سچ کیا ہو تا ہے۔سچ بولنے کے کیا فوائد ہیں اور جھوٹ بولنے کے کیا نقصانات ہیں۔میرے نزدیک سو میں سے نوے انسان یہ سمجھتے ہی نہیں کہ سچ کیا ہوتا ہے۔یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جتنا زیادہ کسی بات کو دہرایا جائے اتنا ہی لوگ اس کو کم سمجھتے ہیں۔تم کسی شخص سے پوچھو۔حتی کہ کسی گاؤں کے رہنے والے شخص سے