مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 265
265 گئے۔ہمارا کوئی انتظام کیا جائے۔اب بظاہر تو ایسا شخص جو بیوی بچوں کو قادیان میں بٹھا کر آپ کہیں غائب ہو جائے کہہ سکتا ہے کہ کسی کو مجھ پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔بیوی بچے چھوڑے ہیں تو میں نے اور اگر مریں گے تو میرے بیوی بچے مریں گے نہ کہ کسی اور کے۔لیکن اگر یہی اصل قوم اختیار کرلے اور ان کی طرف توجہ نہ افراد کا محنت نہ کرنا ایک قومی جرم ہے کرے تو آیا تمام جماعت ایک ملامت کے نیچے آجائے گی یا نہیں کہ فلاں آدمی بھوکے مر گئے اور جماعت نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ لوگوں کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ان کا تعلق ہے اور ضرور ہے کیونکہ اگر وہ ان کی خبر نہ لیں تو بد نام ہو جائیں۔پس قوم ان کی خبر گیری کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔حالانکہ اگر ایسے لوگ خود محنت کریں اور مشقت کا کام کر کے اپنی روزی کمائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اور ان کے بیوی بچے قوم پر بار ثابت ہوں۔پس محنت نہ کرنا بھی کسی کا ذاتی فعل نہیں بلکہ ایک قومی جرم ہے۔اسی طرح گو آج کل یہ بات کسی قدر کم ہو گئی ہے مگر پہلے بالعموم مسلمان تاجر اور کارخانہ دار بھی ہندوؤں کو ملازم رکھتے تھے ، مسلمانوں کو نہیں اور جب پوچھا جائے کہ مسلمانوں کو ملازم کیوں نہیں رکھتے تو ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ کوئی مسلمان دیانتدار نہیں ملتا۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔مسلمانوں میں بھی بڑے بڑے دیانتدار لوگ پائے جاتے ہیں۔مگر جانتے ہو اس کی تہہ میں کیا بات ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا ایک حصہ بعض افراد کی غلطیوں سے قومیں بدنام ہو جاتی ہیں بد دیانت ہو گیا تو اس نے باقیوں کو بھی بد دیانت مشہور کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ چند بد دیانت اور خائن مسلمانوں کی وجہ سے سب مسلمانوں کو نوکری ملنا مشکل ہو گئی۔گویا ان بد دیانتوں نے نہ صرف اپنا ہی رزق بند کیا بلکہ دوسرے مسلمانوں کے رزق کو بھی بند کیا۔لوگوں میں یہ عام رواج ہوتا ہے کہ جب انہیں کسی شخص سے نقصان پہنچتا ہے تو وہ اس کی تمام قوم کا نام لے کر کہتے ہیں کہ وہ سب قوم ایسی ہی ہے۔ہم اپنے کاموں میں بھی دیکھتے ہیں کہ جہاں کسی احمدی سے کوئی غفلت ہوتی ہے سب لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ بس جی دیکھ لیا احمدی ایسے ایسے ہوتے ہیں۔بلکہ خود بعض دفعہ احمدی بھی اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکال دیتے ہیں۔اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات میں بعض کار خانے اوروں کو ملازم رکھ لیتے ہیں مگر احمد یوں کو نہیں رکھتے اور کہتے ہیں کہ احمدی اچھے نہیں ہوتے ہیں۔اب کوئی احمدی ایسا ہوا ہو گا جس نے اپنا برا نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ہو گا۔مگر اس ایک کی وجہ سے بد نام ساری قوم ہوئی۔لیکن اگر اس میں محنت کی عادت ہوتی۔اگر وہ دیانت اور امانت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو تا تو نہ صرف وہ اپنی روٹی کما سکتا بلکہ دوسرے احمدیوں کی روٹی کا بھی انتظام ہو جاتا۔کیونکہ لوگ کہتے یہ احمدی تھا جس نے بڑی دیانتداری سے کام کیا۔اب اور کاموں پر بھی ہم احمدیوں کو ہی مقرر کریں گے تاکہ ہمارے کام خوش اسلوبی سے ہوتے رہیں۔غرض اگر ایک آدمی اچھا کام کرتا ہے تو دوسرے کی روٹی کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے اور اگر ایک آدمی اپنے فرائض کی