مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 264

264 ہے۔بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ میں کام کروں یا نہ کروں۔دوسروں کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔حالانکہ وہ مشین کا ایک پر زہ ہوتا ہے اور اس کی خرابی کے ساتھ ساری مشین کی خرابی اور اس کی عمدگی کے ساتھ ساری مشین کی عمدگی وابستہ ہوتی ہے۔اگر یہ پر زہ ناکارہ ہو گا تو مشین پر لازماً اثر پڑے گا۔جیسے دو بیل ایک گاڑی میں جتے ہوئے ہوں تو کیا ایک کہہ سکتا ہے کہ یہ عمل میری مرضی پر منحصر ہے کہ میں چلوں یا نہ چلوں۔وہ دونوں چلیں گے تو گاڑی چلے گی۔اور اگر ان میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے گا تو گاڑی نہیں چل سکے گی۔اسی طرح تمام بنی نوع انسان مشین کے پرزے ہیں۔ایک ملک کے رہنے والے اپنی حدود میں مشین کے پرزے ہیں اور ایک شہر کے رہنے والے ان پر زوں سے زیادہ قریب کے پرزے ہیں۔اگر ان میں سے ایک بھی صحیح طور پر اپنے فرائض کو سرانجام نہیں دے گا تو لازماً اس کا دوسروں پر بھی اثر پڑے گا۔قادیان میں اس کی مثالیں کثرت سے ملتی رہتی ہیں۔ایک شخص محنت نہیں کرتا اور نہ اپنے بیوی بچوں کے گزارہ کی کوئی صورت اختیار کرتا ہے۔لوگ اسے سمجھاتے ہیں کہ دیکھو مزدوری کرو محنت کرو اور اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا انتظام کرو۔مگر وہ کہتا ہے کہ تم کو کیا میں محنت کروں یا نہ کروں یہ میرا اختیار ہے۔تمہیں اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔اب بظا ہر یہ جواب صحیح معلوم ہو تا ہے مگر جب نتیجہ دیکھا جائے تو اس کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے اور وہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کی بیوی بچے کہتے پھرتے ہیں کہ ہم بھو کے مر گئے۔ہمارا کوئی خیال کرے۔اب ایک تو وہ غریب یتیم ہوتے ہیں جن کو کما کر کھلانے والا کوئی نہیں ہوتا اور ایک یہ غریب ہوتے ہیں کہ ان کا کمانے والا موجود ہے مگر وہ کماتا نہیں اور محنت سے جی چراتا ہے۔اگر وہ محنت سے کام کرتا اور خود کما کر بیوی بچوں کو کھلا تا تو صدقہ و خیرات کا ایک حصہ اس کے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کی بجائے ان غرباء پر خرچ کیا جاتا جن کو کما کر کھلانے والا کوئی نہیں اور حق محقدار رسید پر عمل ہو تا۔لیکن اگر بعض گھروں میں کمانے والے تو موجود ہیں مگر وہ کما کر نہ لائیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ صدقہ و خیرات کی رقم بٹ جائے گی اور کچھ تو ان غرباء کو ملے گی جن کا کمانے والا کوئی نہیں اور کچھ ان کو ملے گی جن کے کمانے والے تو ہیں مگر وہ محنت نہیں کرتے اور اس طرح اصل مستحقین کی روٹی آدھی ہو جائے گی۔آخر محلے والوں کے پاس کوئی جادو تو نہیں ہو تاکہ وہ جتنا روپیہ چاہیں دوسروں کو دے دیں۔وہ اپنے اخراجات میں سے تنگی برداشت کر کے کچھ روپیہ بچاتے اور غرباء کو دیتے ہیں۔مگر یہ سکتے لوگ غرباء کے حصہ کو کھا جاتے اور اپنی قوم اور اپنے محلہ والوں پر ایک بوجھ بنے رہتے ہیں۔اگر اس قسم کے لوگوں کے بیوی بچے دوسروں سے مانگیں نہ اور یہ نہ کہیں کہ ہمیں کچھ دو ہم بھوکے مر رہے ہیں تو کم از کم یہ ضرور کہیں گے کہ ہمیں اتنا ادھار دو۔جو لوگ شریف ہوتے ہیں وہ ان کو دے تو دیتے ہیں مگر دل میں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ نہ ان لوگوں نے روپیہ کمانا ہے اور نہ اس سے ہمیں واپس مانا ہے۔اب دیکھ لو محنت کرنے کا اثر قوم پر پڑایا نہیں۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بیوی بچوں کو قادیان میں چھوڑ کر آپ کہیں باہر بھاگ جاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ان کے بیوی بچے سلسلہ پر بار بن جاتے ہیں اور پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کے پاس چٹھیوں پر چٹھیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ ہم بھو کے مر