مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 263

263 حاصل ہوتی ہے اور پھر وہ خدا تعالیٰ کی محبت کی طرف لوٹتے ہیں۔گویا روحانی کمال کے حصول کے دونوں ذریعے ہیں۔کبھی خدا سے پہلے محبت ہوتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں بندوں کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور خدا سے محبت اس کے بعد پیدا ہوتی ہے۔محمد م کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلے ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوئی اور پھر وہی محبت بنی نوع انسان کی۔یہ محبت وہی ہوتی ہے۔مگر جن کو کسب سے محبت حاصل ہوتی ہے ، ان کے دل میں پہلے بنی نوع انسان سے محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ ان کے لئے ہر قسم کی قربانی کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان کے تعلقات بنی نوع انسان سے کامل ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ سے بھی ان کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالی کو پانے کے لئے یہ دونوں ذرائع ہیں۔کوئی خدا کو اس طرح پالیتا ہے اور کوئی اس طرح۔کوئی خدا سے مل کر بندوں کو پالیتا ہے اور کوئی بندوں سے مل کر خدا کو پالیتا ہے۔جہاں وہب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل انسان کے شامل حال ہوتا ہے۔وہاں پہلے خدا کی محبت ملتی ہے اور پھر بندوں کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے اور جہاں کسب اور محنت کا دخل ہو وہاں پہلے بندوں کی محبت پیدا ہوتی ہے اور پھر خدا کی محبت۔گویا ایک تو نیچے سے اوپر جاتا ہے اور دوسرا اوپر سے نیچے آتا ہے۔تو ان اخلاق کا اپنے اندر پیدا کرنا دین کی حفاظت کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔یہ اخلاق آگے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض براہ راست بنی نوع انسان سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض بالواسطہ تعلق رکھتے ہیں۔مثلاً غریب کی مدد کرنا۔یہ تو ہر شخص کو نظر آتا ہے کہ ایک ثواب کا کام ہے اور اس کا دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔مگر سچ کے متعلق انسان نہیں سمجھتا کہ ان کے بولنے سے بنی نوع انسان کا کیا فائدہ ہو گا۔حالانکہ سچ بولنا بھی انہی نیکیوں میں ہے جن سے انسان کو فائدہ پہنچتا ہے۔جو شخص سچ نہیں بولے گا وہ لازماً دوسرے کو دھوکا دے گا اور دھو کا ایک ایسی چیز ہے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔مثلاً ایک شخص کسی سے پوچھے کہ فلاں شخص قادیان میں ہے جو لا ہو ر گیا ہوا ہے اسے معلوم ہو کہ وہ لا ہو ر گیا ہوا ہے مگر جھوٹ بول دے اور کہہ دے کہ قادیان میں ہی ہے۔تو اب دوسرا شخص اس سے ملنے کے لئے جائے گا۔فرض کرو۔اس کا مکان میل بھر دو ر ہے تو وہ ایک میل کا چکر کاٹ کر اس کے مکان پر پہنچے گا اور جب اس کے متعلق دریافت کرے گا تو گھر سے پتہ لگے گا کہ وہ تو کل کا لا ہو ر گیا ہوا ہے۔اب خود ہی سوچو کہ اس نے جھوٹ بول کر ایک شخص کو کتنا نقصان پہنچایا۔یا فرض کرو ایک شخص نے مثلاً زید سے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ تم لاہور چلو میں وہاں تم سے کل چل کر مل جاؤں گا۔اب جب کل آتا ہے اور وہ شخص ایک تیسرے شخص سے اس بارہ میں پوچھتا ہے کہ کیا وہ لاہور چلا گیا ہے اور جب وہ جھوٹ بول کر کہتا ہے کہ نہیں تو لا زمان یہ شخص بھی اب لاہور نہ جائے گا اور دوسرے شخص کے سامنے جھوٹا بنے گا اور اس دوسرے شخص کا بھی سفر ضائع جائے گا۔تو بظا ہر انسان یہ خیال کرتا ہے کہ سچ بولنے کا کسی دوسرے کے ساتھ کیا تعلق ہے۔حالانکہ اگر ایک شخص سچ بولتا ہے تو وہ سب کو آرام پہنچاتا ہے اور اگر ایک شخص جھوٹ بولتا ہے تو وہ سب کو تکلیف پہنچاتا ہے۔اسی طرح محنت کرنا بھی انہی اخلاق میں سے ہے جن کا دوسروں کے ساتھ تعلق ہوتا۔