مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 251
251 پروری کرو مگر اسی وقت جب تک غریب پروری سے بہادر کہلا سکو۔تم بے شک مظلوم بنو مگر اسی وقت جب تم مظلوم بن کر بہادر کہلا سکو اور اگر تمہارا دین اور تمہارا ایمان کہتا ہے کہ اب چشم پوشی کا وقت نہیں۔اب پیچھے ہٹنے کا وقت نہیں تو اس صورت میں تم اپنا فرض ادا کرنے کے لئے آگے بڑھو اور پھر جو کچھ درست سمجھتے ہو اس کو دلیری سے کرو۔مجھے حیرت آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ایک احمدی دوسرے کو گالی دیتے سنکر جوش میں آجاتا اور خود بھی اس کے مقابلہ میں گالی دے دیتا ہے۔حالانکہ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ تم گالی سنکر صبر کرو یا اگر کوئی شخص تمہیں تھپڑ مارتا ہے اور تم بھی جواب میں اسے تھپڑ مارتے دیتے ہو تو یہ اسلامی بہادری نہیں۔اسلامی بہادری یہ ہے کہ جب کوئی شخص تمہیں تھپڑ مارے تو تم اسے کہو کہ تم نے جو کچھ کیا ناواقفیت سے کیا مگر میرا مذ ہب مجھے یہی کہتا ہے کہ میں دوسرے کو معاف کروں۔اس لئے میں تمہیں کچھ نہیں کہتا بلکہ معاف کرتا ہوں۔بشرطیکہ تم یہ سمجھو کہ اس کو معاف کرنے کا فائدہ ہے اور یا د رکھو کہ نوے فیصدی فائدہ ہی ہو تا ہے۔" پس بہادری یہ ہے کہ تم نوے فیصدی لوگوں سے کہہ دو کہ بے شک ہمیں مار لو۔ہم تمہیں کچھ حقیقی شجاعت نہیں کہیں گے بشرطیکہ تمہارے بازو میں طاقت ہو۔بشرطیکہ تمہاری آنکھوں میں حدت ہو اور بشرطیکہ تمہارا سینہ ابھرا ہوا ہو۔تب بے شک تمہارے اس عضو کا دوسرے پر اثر پڑے گا۔لیکن اگر تم کبڑے ہو تمہارا ہاتھ خالی ہو ، تمہارے بازو دبلے پتلے ہوں، تمہاری آنکھوں میں چمک نہ ہو اور تم دوسرے کو یہ کہو کہ میں تمہیں معاف کرتا ہوں تو ہر شخص یہی کہے گا۔عصمت بی بی از بے چادری " مقابلہ کی طاقت نہیں اور زبان سے معاف کیا جاتا ہے۔دیکھو اسلام تم سے صبر کا مطالبہ کرتا ہے۔اسلام تم سے رحم کا مطالبہ کرتا ہے۔اسلام تم سے عفو کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اسلام تم سے بہادری کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔اگر تم دس آدمیوں کو پچھاڑ سکتے ہو لیکن جب کوئی شخص تمہیں تھپڑ مارتا ہے تو تم گردن جھکا کر یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلے آتے ہو کہ میں نے تمہیں معاف کیا تو سارا گاؤں تمہارے اس فعل سے متاثر ہو گا۔لیکن اگر تم کمزور ہونے کی وجہ سے ایک شخص کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے اور پھر اسے کہتے ہو کہ میں نے تمہیں معاف کیا تو ہر شخص تم پر ہنسے گا اور کہے گا کہ یہ معاف کرنے والا جھوٹا ہے۔جانتا ہے کہ اگر میں نے ہاتھ اٹھایا تو دوسرا تھپڑ مار کر میرے سارے دانت تو ڑ دے گا اس لئے یونہی اس نے کہہ دیا ہے کہ میں نے معاف کیا ورنہ جانتا ہے کہ مقابلہ کرنے کی اس میں ہمت نہیں۔میں نے اگر تمہیں ورزش کی نصیحت کی تو اس لئے کہ اگر اسلام کے احکام کے ماتحت تم کسی وقت عفو سے کام لو تو لوگ تمہارے اس عفو کو بزدلی کا نتیجہ نہ سمجھیں۔دھوکا اور فریب نہ سمجھیں۔جب تمہارے بازو میں یہ طاقت ہو کہ تم ایک دفعہ کسی پر ہاتھ اٹھاؤ تو اس کے دو چار دانت نکال دو اور پھر اس کے قصور پر اسے معاف کر دو تو دیکھو اس کا کتنا اثر ہوتا ہے۔لوگ زبر دست کی معافی سے متاثر ہوتے ہیں۔کمزور کی معافی سے متاثر نہیں ہوتے۔اور بہادری اس کی سمجھی جاتی ہے جس میں طاقت ہو اور پھر عفو سے کام لے۔حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک لڑائی میں شامل تھے۔ایک بہت بڑا دشمن جس کا مقابلہ بہت کم لوگ کر