مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 244
244 میرا دل تو آج چاہتا تھا کہ میں بہت سی باتیں اس اجلاس میں کہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت پرسوں سے میری آواز بیٹھتی چلی جارہی ہے اور آج تو ایسی بیٹھی ہوئی ہے اور گلا ایسا ماؤف ہے کہ اگر میں زیادہ یر تک تقریر کروں تو ممکن ہے گلے کو کوئی مستقل نقصان پہنچ جائے اور مجھے اس بات کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔میری آواز پہلے بہت بلند ہوا کرتی تھی۔ایسی بلند کہ بعض دوستوں نے بتایا کہ چھوٹی بیت الذکر میں آپ کی قرات سن کر اور سمجھ کر مدرسہ احمدیہ میں نماز پڑھی ہے۔یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے۔مگر ایک دفعہ میرا اسی طرح گلا بیٹھا ہوا تھا کہ میں اپنے ایک عزیز کے ہاں گیا۔اس نے کہا آپ قرآن بہت اچھا پڑھتے ہیں۔میں گراموفون ریکارڈ بھروانا چاہتا ہوں۔آپ کسی سورۃ کی تلاوت کر دیں۔میں نے معذرت کی کہ مجھے نزلہ و زکام ہے اور گلا بیٹھا ہوا ہے۔مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ میں تو آج اس غرض کے لئے تیار ہو کر بیٹھا ہوں۔چنانچہ میں نے سورہ فاتحہ یا کوئی اور سورۃ ( مجھے اس وقت صحیح طور پر یاد نہیں رہا ) ریکارڈ میں بھروادی۔اس کے بعد میری آواز جو بیٹھی ہوئی تھی وہ تو درست ہو گئی مگر آواز کی بلندی میں قریباً ۲۵ فیصدی کی ہمیشہ کے لئے کمی آگئی۔تو ایسی حالت میں زیادہ بولنا بہت دفعہ مضر ہو تا ہے۔کھانسی کی حالت میں تو میں کافی تقریر کر لیا کرتا ہوں اور اس کی میں چنداں پرواہ نہیں کیا کرتا مگر گلے کی خراش اس سے مختلف چیز ہے۔خدام الاحمدیہ کا یہ اجلاس اس لحاظ سے پہلا اجلاس ہے کہ اس میں باہر سے بھی دوست تشریف لائے ہیں۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ میں ان کے آنے کی وجہ سے پورے طور پر خوش ہوں کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے بہت کم دوست باہر سے آئے ہیں اور خدام الاحمدیہ کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔شاید کل تعداد کا چھٹا یا ساتواں یا آٹھواں یا نواں بلکہ دسواں حصہ آیا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس مجلس میں بیٹھنے والے اکثر دوست گورداسپور کے ضلع کے ہیں اور ان میں سے بھی اکثر زمیندار ہیں جن کے لئے پیدل سفر کرنا کوئی مشکل نہیں ہو تا۔ان کا اس جگہ آنا زمینداروں کی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے بے شک ایک قابل قدر قربانی ہے مگر ان کے آنے کی وجہ سے اس مجلس کے افراد کی تعداد کا بڑھ جانا دوسرے شہروں کے خدام الاحمدیہ کے لئے کوئی خوش کن امر نہیں ہو سکتا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور ان رپورٹوں سے جو میرے پاس پہنچتی رہی ہیں اندازہ لگا سکا ہوں۔گورداسپور کو چھوڑ بیرو نجات سے دواڑھائی سو آدمی آیا ہے اور یہ تعداد خدام الاحمدیہ کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت کم ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی قریب میں ہی جلسہ سالانہ گذرا ہے۔لیکن نوجوانوں کی ہمت اور ان کا ولولہ اور جوش ان باتوں کو نہیں دیکھا کرتا۔یہ جلسہ تو ایک مہینہ کے بعد ہوا ہے۔میں جانتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کئی نوجوان ایسے تھے جو لاہور قادیان آنے کی اہمیت سے ہر اتوار کو با قاعدہ قادیان پہنچ جایا کرتے تھے۔مثلا چو ہد ری فتح محمد صاحب ان چوہدری دنوں کالج میں پڑھتے تھے مگر ان کا آنا جانا انتا با قاعدہ تھا کہ ایک اتوار کو وہ کسی وجہ سے نہ آسکے تو حضرت مسیح موعود