مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 183

183 ہوا۔اگر ستر اسی سال کے بوڑھے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتے تو وہ کہاں کام کر سکتے تھے۔اول تو ان کی حالتوں کا سدھرناہی مشکل تھا اور اگر وہ درست بھی ہو جاتے تو ان میں سے اکثر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں ہی فوت ہو جاتے اور اگر چند لوگ زندہ بھی رہتے تو پانچ سال سات سال کے بعد وہ بھی ختم ہو جاتے اور جماعت میں کوئی ایسا شخص نہ رہتا جو اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف و آگاہ ہو تا۔پس ابتدائی زمانہ میں نوجوانوں کا اسلام میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت تھی اور یہی وہ تدبیر تھی جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اس نے نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کر دی جس نے آپ کی شاگردی میں رہ کر آپ سے تعلیم حاصل کی حتی کہ بعض نے تو اپنا بچپن آپ کی نگرانی میں ہی گزارا جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں کہ وہ گیارہ سال کی عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ایک لمبے عرصہ تک آپ کا تربیت یافتہ گروہ دنیا میں موجود رہا اور اس نے اپنی تعلیم اور تربیت سے ایک اور نئی اور اعلیٰ درجہ کی جماعت پیدا کر دی جو ان کی وفات کے بعد اسلام کے جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھامی رہی۔پس خدام الاحمدیہ کا کام کوئی معمولی کام نہیں۔یہ نہایت ہی خدام الاحمدیہ کا کام کوئی معمولی کام نہیں اہمیت رکھنے والا کام ہے اور در حقیقت خدام الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے اور ہماری فوج وہ نہیں جس کے ہاتھوں میں بندوقیں یا تلواریں ہوں بلکہ ہماری فوج وہ ہے جس نے دلائل سے دنیا پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔ہماری تلواریں اور ہماری بندوقیں وہ دلائل ہیں جو احمدیت کی صداقت کے متعلق ہماری طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ہماری بندوقیں اور ہماری تلوار میں وہ دعائیں ہیں جو ترقی احمدیت کے متعلق ہم ہر وقت مانگتے رہتے ہیں اور ہماری بندوقیں اور ہماری تلواریں وہ اخلاق فاضلہ ہیں جو ہم سے صادر ہوتے ہیں۔پس دلائل مذہبی دعائیں اور دلائل مذہبی دعائیں اور اخلاق فاضلہ ہی ہمارے ہتھیار ہیں اخلاق فاضلہ یہی ہماری تو ہیں اور یہی ہماری تلواریں ، انہی تو پوں اور انہی تلواروں سے ہم نے دنیا کے تمام ادیان کو فتح کر کے اسلام کا پرچم لہرانا اور ان پر غلبہ و اقتدار حاصل کرنا ہے اور اگر نوجوانوں میں یہ مہم جاری رہی تو ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی مسلح فوج تیار کرلیں گے جس کے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہر سکے گا اور واقعہ میں اگر ہماری جماعت کے نوجوان مذہب کی تعلیم سے واقف ہو جائیں ، اگر وہ ان دلائل سے واقف ہو جائیں جو غیر مذاہب کے مقابلہ میں ہماری طرف سے پیش کئے جاتے ہیں اور اگر وہ دعاؤں سے کام لیں تو دنیا کا کون سا انسان ہے جو ان کے مقابلہ میں ٹھہر سکتا ہو۔