مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 176
176 تو اس کے شعر حفظ کرتی۔اسی واسطے جو بڑے بڑے شعراء ہوتے تھے ، ان کے ساتھ ایسے لوگ رہتے تھے جو ان کے شعر حفظ کرتے۔ان کو راویہ کہا جاتا تھا اور توجہ اور مشق سے حافظے اتنے تیز ہو جاتے تھے کہ بعض کو لاکھ لاکھ دو دو لاکھ اور تین تین لاکھ شعر زبانی یاد ہوتے تھے۔ایران کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ تھا۔اس زمانہ میں وہاں عربی کا زیادہ رواج تھا۔اسلامی ممالک میں زیادہ تر یہی زبان رائج ہوتی تھی۔بادشاہ کو سخاوت کی عادت تھی۔شعراء آتے ، شعر سناتے اور بڑے بڑے انعام پاتے تھے۔وزیر نے اس سے کہا کہ شعراء تو اس طرح لوٹ کر لے جائیں گے اور خزانے میں کمی آجائے گی اس لئے آپ ہر ایک کو انعام نہ دیا کریں بلکہ قید لگادیں کہ صرف اسی شاعر کو انعام دوں گا جو کم سے کم ایک لاکھ شعر سنا سکتا ہو۔بادشاہ نے یہ مان لیا اور اعلان ہو گیا کہ جب تک کسی شاعر کو کم سے کم ایک لاکھ شعر یاد نہ ہوں وہ دربار شاہی میں باریابی حاصل نہ کر سکے گا۔اب لاکھ شعر کا یاد کرنا ہر ایک کے لئے تو مشکل ہے۔کسی کو پانچ ہزار دس ہزار یاد ہوتے کسی کو میں ہزار کسی کو تمھیں یا چالیس ہزار اور اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام ادباء اور شعراء کو موقعہ نہیں مل سکتا تھا اور وہ بھوکے مرنے لگے۔ان کو خیال آیا کہ اس طرح تو ملک کے علم ادب کو نقصان پہنچے گا۔اس زمانہ میں وہاں ایک بہت بڑے اور مشہور ادیب تھے۔سب اکٹھے ہو کر ان کے پاس پہنچے اور کہا اس سے ملک کے علم ادب کو بہت نقصان پہنچے گا اس لئے آپ بادشاہ سے ملیں اور اس بات پر آمادہ کریں کہ ایک لاکھ کی تعداد میں کمی کر دے۔وہ بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔بادشاہ نے بعض دفعہ ان کو بلوایا بھی تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا تھا چونکہ وہ اپنی ذات میں اپنے آپ کو ادب کا بادشاہ سمجھتے تھے مگر یہ چونکہ ایک ادبی خدمت خدمت تھی اس لئے وہ بادشاہ سے ملنے کے لئے تیار ہو گئے۔چنانچہ وہ گئے اور اطلاع کرائی۔دربانوں نے نام پوچھا مگر انہوں نے نام بتانے سے انکار کر دیا اور کہا ایک شاعر ملنا چاہتا ہے۔دربانوں نے کہا کہ شاعروں کے لئے یہ شرط ہے کہ انہیں کم سے کم ایک لاکھ شعر باد ہونا چاہئے۔پہلے درباری امتحان لیں گے اور اگر کوئی ایک لاکھ شعر سنا سکے تو اسے باریابی کا موقع دیا جائے گاورنہ نہیں۔انہوں نے پیغامبر سے کہا جا کر بادشاہ سے پوچھو کہ وہ کون سے ایک لاکھ شعر سننا چاہتا ہے ، اسلام کے زمانہ کے یا زمانہ جاہلیت کے ؟ مردوں کے یا عورتوں کے ؟ میں ہر قسم کے ایک ایک لاکھ شعر سنانے کو تیار ہوں۔جب بادشاہ کو یہ اطلاع پہنچی تو وہ سمجھ گیا۔انہی کا نام لیا اور کہا کہ وہی ہوں گے۔ننگے پاؤں بھاگ آیا اور کہا کہ فرمائیے کیا خدمت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کے س حکم سے ملک پر یہ ظلم ہو رہا ہے کہ اس کے ادب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اس شرط کے ہوتے ہوئے کوئی خاص شاعر ہی باریاب ہو سکتا ہے اور جو اتنا بڑا ادیب ہو اسے آپ کی مدد کی کیا احتیاج ہو سکتی ہے اور وہ دربار میں کیوں آئے گا۔اسے تو گھر بیٹھے ہی روزی ملے گی اس لئے اسے منسوخ کر دیں۔بادشاہ نے کہا بہت اچھا میں اسے منسوخ کرتا ہوں اور جب یہ شرط لگائی تھی تو میرا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ شاید آپ اسے منسوخ کرانے کے لئے آئیں۔تو حافظہ پر زور دینے کی وجہ سے پرانے زمانہ میں ایسے ایسے لوگ بھی ہوتے تھے جو لاکھوں شعر زبانی یاد رکھتے تھے۔کہتے ہیں امام شافعی نے پانچ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا تھا۔بوجہ حافظہ پر عام طور پر زور