مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 153

153 سمجھا شاید یہ جماعت والوں کا اسباب ہے حالانکہ اول تو ہم ہوٹل میں ٹھرے ہوئے تھے اور وہاں جماعت کا سامان کس طرح نہیں آسکتا تھا لیکن اگر بالفرض ان کے نزدیک یہ کسی جماعت کے دوست کا ہی صندوق تھا تو بہر حال انہیں یہ تو سمجھنا چاہئے تھا کہ اب ہم نے دوبارہ اس ہوٹل کے کمرہ میں نہیں آنا۔پس انہیں چاہئے کہ وہ اس صورت میں بھی اس صندوق کو اٹھاتے اور جہاز تک لاکر دریافت کرتے کہ یہ کس احمدی کا صندوق ہے۔اس طرح بات بھی کھل جاتی اور چیز بھی ضائع نہ ہوتی کیونکہ اگر بالفرض وہ کسی احمدی بھائی کا سامان ہو تا تو بھی اس کی حفاظت ہمارے ذمہ تھی کیونکہ وہ ہمارے کمرہ میں تھا اور انہیں چاہئے تھا کہ دونوں صورتوں میں وہ اسباب اٹھاتے اور ساتھ لے جاتے مگر جب میں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو کہنے لگے خیال ہی نہیں آیا اور یہی جواب ہے جو ہر ہندوستانی غلطی کے موقع پر دیا کرتا ہے اور جب اس سے بھی زیادہ ناراضگی کا اظہار کیا جائے تو دو سرا قدم وہ یہ اٹھاتا ہے کہ کہہ دیتا ہے غلطی ہو گئی معاف کر دیجئے۔میں چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ اپنے کام میں اس امر کو بھی مد نظر ر کھیں اور نوجوانوں کے ذہنوں کو تیز کریں۔ہم نے بچپن میں جو سب سے پہلی انجمن بنائی تھی اس کا نام تشحید انجمن تشحیذ الاذہان اور ذہانت الا زبان تھا یعنی ذہنوں کو تیز کرنے کی انجمن۔اس کے نام کا تصور کر کے بھی میرا ایمان تازہ ہو جاتا اور میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے کہ انبیاء کے ذہن کیسے تیز ہوتے ہیں اور کس طرح وہ معمولی باتوں میں بڑے بڑے اہم نقائص کی اصلاح کی طرف توجہ دلا دیتے ہیں کہ آج ایک وسیع تجربہ کے بعد جو بات مجھ پر ظاہر ہوئی ہے اس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت سادگی کے ساتھ صرف دو لفظوں میں توجہ دلا دی تھی کیونکہ جب ہم نے ایک انجمن بنانے کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کا کوئی نام تجویز فرمائیں تو آپ نے اس انجمن کا نام ” تشحيذ الاذہان تجویز فرمایا یعنی ذہنوں کو تیز کرنا۔رسالہ تشعیذ الاذہان بعد میں اسی وجہ سے اس نام پر جاری ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انجمن کا نام تشحیذ الاذہان رکھا تھا اور چونکہ اسی انجمن نے یہ رسالہ جاری کیا اس لئے اس کا نام بھی تشحیذ الاذہان رکھ دیا گیا۔پس ہماری انجمن کا نام ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ” تشحیذ الاذہان" رکھا تھا یعنی وہ انجمن جس کے ممبران کا یہ فرض ہے کہ وہ ذہنوں کو تیز کریں اور در حقیقت بچپن میں ہی ذہن تیز ہو سکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے بہت بڑی ذمہ داری استادوں پر عائد ہوتی ہے مگر افسوس ہے کہ ہم اپنے بچوں کے بہت سے اوقات کتابوں میں ضائع کر دیتے ہیں اور وہ حقیقی فائدہ جس سے قوم ترقی کرتی ہے اس کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ ہمارا فرض ہے کہ ہماری کھیلیں اس رنگ کی ہوں جن سے ہمارے ذہن تیز ہوں۔ہماری تعلیم اس رنگ کی ہو جس سے ہمارے ذہن تیز ہوں۔ہماری انجمنوں کے کام اس رنگ کے ہوں جن سے ہمارے