مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 148
148 ایک کہتا ہے میں نے سمجھا تھا کہ اس کا دوسرے نے خیال رکھا ہو گا اور دوسرا کہتا ہے میں نے سمجھا تھا اس کا خیال فلاں نے رکھا ہو گا۔یہ عجیب نادانی ہے کہ ہر شخص دوسرے کو ذمہ وار قرار دیتا ہے۔جب تم اتنا کام بھی نہیں کر سکتے تو تم ساری دنیا کو کہاں سنبھال سکو گے مگر اس کی وجہ محض بے توجہی ہے اور پھر میں نے دیکھا ہے جب انہیں نصیحت کی جائے تو وہ ایک دوسری نادانی کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور خیال کرنے لگتے ہیں کہ شاید اپنے نقصان کی وجہ سے انہیں غصہ چڑھا ہوا ہے حالانکہ مجھے غصہ ان کی ذہانت کے فقدان پر آ رہا ہوتا ہے۔ہماری جماعت میں ایک شخص ہو ا کر تا تھا اب تو وہ مر گیا ہے اور مرا بھی بری حالت میں ہے اس نے ایک دفعہ کچھ اور دوستوں سمیت میرے پہرہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔میں خود تو کسی کو پہرہ کے لئے نہیں کہتا لیکن جب کوئی پسرہ کے لئے اپنی خوشی سے آجائے تو اسے روکتا بھی نہیں۔اس وقت ہم نہر پر گئے ہوئے تھے اور ہمارا خیمہ ایک طرف لگا ہوا تھا۔اس نے کہا ہم آپ کا پہرہ دیں گے۔گرمیوں کے دن تھے ، مجھے تکان محسوس ہوئی اور میں خیمہ میں جاکر سو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں اٹھا تو میں نے گھر والوں سے دریافت کیا کہ خیمہ میں جو میری چھتری لٹک رہی تھی وہ کہاں گئی ؟ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ تو باہر گئے ہوئے تھے اور ابھی واپس آئے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ کون لے گیا۔خادمہ سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگی کہ ایک آدمی خیمہ کے پاس آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ حضرت صاحب کی چھتری دے دو چنانچہ میں نے چھتری اٹھا کر اسے دے دی۔میں نے جب باہر جا کر دریافت کیا تو ہر ایک شخص نے لاعلمی ظاہر کی کہ ہمیں نہیں معلوم کون خیمہ کے پاس گیا اور چھتری مانگ کر لے گیا۔غرض کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون شخص تھا۔کوئی چور تھا یا کوئی دشمن تھا جو صرف یہ بتانے کے لئے اندر آیا تھا کہ تمہارے پہروں کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ ایسے شخص کو چھتری لینے سے کیا حاصل ہو سکتا تھا۔اس کی غرض محض یہ بتانا ہو گی کہ تم اتنے غافل ہو کہ میں تمہارے گھر کے اندر داخل ہو کر ایک چیز اٹھا سکتا ہوں۔اگر کسی مصلحت یا اخلاق کی وجہ سے میں نے تم پر حملہ نہیں کیا تو اور بات ہے ورنہ میں اندر ضرور داخل ہو گیا ہوں اور تمہاری ایک چیز بھی اٹھا کر لے آیا ہوں مگر تمہیں اس کی خبر تک نہیں ہوئی۔بہر حال مجھے جب یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے اس پر اظہار ناراضگی کیا اور کہا کہ ایسے پہرہ کا فائدہ کیا ہے ؟ اس پر وہی آدمی جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہنے لگا کہ اگر مجھے پتہ لگ جائے کہ آپ نے وہ چھتری کہاں سے خریدی تھی تو میں ویسی ہی چھتری خرید کر آپ کی خدمت میں پیش کردوں۔اب دیکھو یہ کتنی کمینہ اور ذلیل ذہنیت تھی اس شخص کی کہ اس نے میری ناراضگی کی حقیقت کو سمجھنے کی تو کوشش نہ کی اور یہ سمجھا کہ میری ناراضگی چھتری کے نقصان کی وجہ سے ہے۔میری ناراخستگی کی جب زمہ داری کا کام لو تو پوری تندہی اور خوش اسلوبی سے سرانجام دو وجہ تو یہ تھی کہ جب تم ایک ذمہ داری کا کام لیتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ اس کام کو پوری تندہی اور خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دو اور اگر تم وہ کام نہیں کر سکتے تو تمہارا اس کی بجا آوری کے لئے ذمہ واری قبول کرنا حماقت ہے مگر اس