مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 123

123 ہی دید بیجئے ، چلئے ایک روپیہ ہی دے دیں۔پھر وہ اس سے بھی نیچے اترا کہنے لگا آٹھ آنے ہی دے دیں۔سات آنے ہی دے دیں۔چلو چھ آنے ہی دے دیں۔مگر میں نے کہا جب میں نے کہہ دیا ہے کہ میں نے نہیں لینا تو میں چھ آنے بھی کیوں دوں۔اسی طرح کشمیر میں میں نے دیکھا ہے۔وہاں لوگ مشک کا نافہ لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے اندر ایک تولہ مشک ہے اور اس کی اصلی قیمت بتیس روپے ہے مگر چونکہ ہمیں روپے کی سخت ضرورت ہے اس لئے ہم آپ کو چومیں پچیس روپے میں نافہ دے سکتے ہیں۔پھر وہی نافہ جس کی قیمت وہ پچیس روپے بتاتے ہیں بعض دفعہ آٹھ آنہ میں بھی دے دیتے ہیں اور جب تم آٹھ آنہ میں مشک کا نافہ لے کر یہ سمجھتے ہو کہ دنیا کے سب سے بڑے ماہر تاجر تم ہو کیونکہ تم نے ایک شخص سے مشک کا نافہ آٹھ آنے میں لے لیا تو اس وقت بھی تم دھو کا خوردہ ہوتے ہو کیونکہ جب اسے کھول کر دیکھا جاتا ہے تو اس میں سے کبوتر کے جمے ہوئے خون کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا اور تمہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ بڑے ماہر تم نہیں بلکہ بڑا ٹھگ وہی تھا جو تمہیں لوٹ کر لے گیا۔وہ نافہ کے باہر تھوڑی سی مٹک مل دیتے ہیں اور اند ر کبوتر کا خون بھر دیتے ہیں۔کبوتر کے خون کی بعض دوائیوں سے بالکل مشک کی سی شکل ہو جاتی ہے اور ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ آج میں نے بڑا ستا سودا کیا۔میں نے آٹھ آنہ میں مشک کا نافہ خرید لیا حالانکہ اس میں صرف کبوتر کا خون ہوتا ہے اور کبوتر کے خون کی قیمت تو ایک پیسہ بھی نہیں ہوتی۔پھر قومی دیانت کو لے لو۔یا تو یہ حال ہے کہ کم سے کم آٹھ کروڑ مسلمان قومی دیانت کا مطلب اور مفہوم ہندوستان میں موجود ہیں اور چند سو انگریز اس ملک پر قبضہ کر لیتے ہیں اور یا یہ حال نظر آتا ہے کہ بدر کے میدان میں عرب کا ایک ہزار نہایت تجربہ کار سپاہی مکہ کی طرف سے لڑنے آتا ہے۔ان کے مقابلے میں صرف تین سو تیرہ آدمی ہیں۔ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے کبھی تلوار چلائی ہی نہیں اور دو تو ان میں پندرہ پندرہ سال کے لڑکے ہیں اور سپاہی کہلانے کے مستحق صرف دو سو کے قریب آدمی ہیں اور یہ بھی کوئی بڑے پائے کے سپاہی نہ تھے۔سوائے چند کے مثلاً حضرت حمزہ ، حضرت علی حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر۔یہ ایسے خاندانوں میں سے تھے جن میں بچپن سے ہی فنون جنگ سکھائے جاتے تھے اور یہی چند آدمی تھے جو خاص طور پر ماہر فن سمجھے جاتے تھے۔باقی سب معمولی سپاہی تھے۔مگر مکہ کی طرف سے آنے والے لشکر میں ایک ایک آدمی ایسا تھا جو ہزار ہزار پر بھاری سمجھا جاتا تھا اور وہ تمام کے تمام فنون جنگ میں نهایت ماہر تھے۔جب مسلمانوں اور کفار کا لشکر آمنے سامنے ہوا تو اس وقت کسی نے سوال پیدا کر دیا کہ اس لڑائی کا فائدہ کیا ہے۔وہ تھوڑے سے آدمی ہیں اور ہیں بھی قریباً سب مکہ کے۔انصاری اس جنگ میں بہت ہی کم ہیں۔پس یہ سب ہمارے بھائی بند ہیں اگر ہم مارے گئے تب بھی اور اگر یہ مارے گئے تب بھی دونوں صورتوں میں مکہ میں ماتم ہو جائے گا۔اس کی بات کو تو لوگوں نے نہ سنا۔مگر انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو پتہ لگانے کے لئے بھیجا کہ مسلمان کتنے ہیں اور ان کے ساز و سامان کا کیا حال ہے۔معلوم ہوتا ہے وہ آدمی نہایت ہی ہوشیار تھا۔جب