مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 116

116 ہے تو وہ اس کا سوائے اس کے اور کیا علاج کر سکتے ہیں کہ دلائل سے اس کا مقابلہ کریں مگر اس رنگ میں مقابلہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ غدار شور مچاتا رہتا ہے اور اس کو دیکھ کر بعض اور لوگ بھی جن کی فطرت میں غداری کا مادہ ہو تا ہے یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ ان کے پاس طاقت تو ہے نہیں چلو ہم بھی ذرا شور مچادیں چنانچہ وہ بھی جماعت کو بد نام کرنے لگ جاتے ہیں۔اس قسم کے مفاسد کو دور کرنے کا صرف ایک ہی علاج ہے۔اور وہ موت کو غداری پر ترجیح دینی چاہئے یہ کہ غداری کا قلع قمع کر دیا جائے اور غداری کا قلع قمع اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک قوم میں ایسی روح پیدا نہ ہو کہ اس کا ہر فرد موت کو غداری پر ترجیح دے اور وہ کہیں کہ ہم مر جائیں گے مگر غداری نہیں کریں گے۔یہ بد دیانتی کبھی انفرادی ہوتی ہے اور کبھی قومی۔انفرادی بد دیانتی اقتصادیات کو بالکل تباہ کر دیتی ہے۔میں جب کشمیر گیا تو مجھے معلوم ہوا کشمیر کے تاجروں کی صرف چاندی کے کام کی ایک کروڑ روپیہ کی تجارت یورپ والوں سے تھی۔اب ایک کروڑ روپیہ کی تجارت کے یہ معنی ہیں کہ ہمیں پچیس لاکھ روپیہ انہیں بطور منافع حاصل ہو تا تھا۔کام کی مزدوری الگ تھی لیکن مجھے بتایا گیا کہ اب یہ تجارت سولہ لاکھ روپیہ تک کی رہ گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ کے لوگ کہتے ہیں یہاں کے مال کا کوئی معیار نہیں۔کبھی کوئی چیز بھیج دیتے ہیں اور کبھی کوئی۔کبھی تو نہایت اعلی مال روانہ کریں گے اور کبھی اس میں کھوٹ ملا دیں گے حالانکہ اگر وہ دیانتداری سے کام کرتے تو آج وہ ایک کروڑ کی تجارت تین چار کروڑ تک پہنچی ہوئی ہوتی۔پہلے زمانہ میں تو تجار تیں بہت کم تھیں۔تجارت میں زیادتی اسی زمانہ میں ہوئی ہے۔پھر اگر اس زمانہ میں جبکہ تجارت کا رواج بہت کم تھا انکی ایک کروڑ روپیہ تجارت ہو سکتی تھی تو لا زما اب وہ تجارت تین چار کروڑ روپیہ کی ہو جاتی مگر بجائے اس کے کہ ان کی تجارت تین چار کروڑ روپیہ تک ترقی کرتی اور کروڑ ڈیڑھ کروڑ روپیہ انہیں نفع حاصل ہو تا۔پہلی تجارت بھی گر گئی اور وہ ایک کروڑ سے اتر کر سولہ لاکھ روپیہ تک آگئی۔اگر وہ تھوڑے سے نفع کی خاطر بد دیانتی کر کے اپنے کام کو نقصان نہ پہنچاتے تو نتیجہ یہ ہو تاکہ ان کی یہ تجارت خوب چلتی۔مگر چونکہ انہوں نے بد دیانتی کی اس لئے تجارت میں نقصان ہو گیا۔تو انفرادی اعتبار بھی دیانت سے ہی قائم رہتا ہے۔انگریزوں کو ہی دیکھ لو۔ان کے کئی لوگ دشمن ہیں مگر وہ دشمن بھی یہ اقرار کرتے ہیں کہ تجارت کے معاملہ میں انگریزوں پر زیادہ اعتبار کیا جا سکتا ہے۔وہ اتنا اعتبار جرمنوں پر نہیں کریں گے۔وہ اتنا اعتبار جاپانیوں پر نہیں کریں گے جتنا اعتبار وہ انگریزوں پر کریں گے کیونکہ انگریزوں نے دیانتداری کے نتیجہ میں اعتماد پیدا کر لیا ہے۔میں نے دیکھا ہے جاپانیوں پر بھی لوگ زیادہ اعتبار نہیں کرتے اور جاپان سے تجارت کرنے والوں کے ہمیشہ دیوالیے نکلتے رہتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ کلکتہ کے چند تاجروں سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے جاپانی تجارت کرنے والے دیوالیے کیوں نکالتے رہتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ جاپانی تاجر عجیب قسم کی حرکت کرتے ہیں۔وہ پہلے اپنی