مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 108

108 اور دینی باتیں ہوں لیکن بحث مباحثہ نہ ہو۔اس چیز کو بھی میں آوارگی سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک یہ بات سب سے زیادہ دل پر زنگ لگانے والی ہے۔مباحثہ کرنے والوں کے مد نظر تقوی نہیں بلکہ مد مقابل کو چپ کرانا ہو تا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ مباحثات سے بچتا ہوں اور میری تو یہ عادت ہے کہ اگر کوئی مباحثانہ رنگ میں سوال کرے تو ابتداء میں ایسا جواب دیتا ہوں کہ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کسی سوال پر پہلے پہل میرا جواب سن کر یہ خیال کیا کہ شاید میں جو اب نہیں دے سکتا اور دراصل ٹالنے کی کوشش کرتا ہوں۔مگر جب کوئی پیچھے ہی پڑ جائے تو جواب کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور پھر خداتعالی کے فضل سے ایسا جواب دیتا ہوں کہ وہ بھی اپنی غلطی محسوس کرلیتا ہے۔یاد رکھو سچائی کے لئے کسی بحث کی ضرورت نہیں ہوتی۔میں نے ہمیشہ ایسی ڈیبیٹیں کرنا سخت مضر ہے باتوں سے روکا ہے ڈیبیٹنگ (DEBATING) کلبیں بھی میرے نزدیک آوارگی کی ایک شاخ ہے اور میں اس سے ہمیشہ روکتا رہتا ہوں۔لیکن یہ چیز بھی کچھ ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ برابر جاری ہے حالانکہ اس سے دل پر سخت زنگ لگ جاتا ہے۔ایک شخص کسی چیز کو مانتا نہیں مگر اس کی تائید میں دلائل دیتا جاتا ہے تو اس سے دل پر زنگ لگنا لازمی امر ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریق ایمان کو خراب کرنے والا ہے۔مولوی محمد احسن صاحب امروہوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا کہ مولوی بشیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت موید اور میں مخالف تھا۔مولوی بشیر صاحب ہمیشہ دوسروں کو براہین احمدیہ پڑھنے کی تلقین کرتے اور کہا کرتے تھے کہ یہ شخص مجدد ہے۔آخر میں نے ان سے کہا کہ آؤ مباحثہ کر لیتے ہیں۔مگر آپ تو چونکہ موید ہیں، آپ مخالفانہ نقطۂ نگاہ سے کتابیں پڑھیں اور میں مخالف ہوں اس لئے موافقانہ نقطۂ نگاہ سے پڑھوں گا۔سات آٹھ دن کتابوں کے مطالعہ کے لئے مقرر ہو گئے اور دونوں نے کتابوں کا مطالعہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ میں جو مخالف تھا احمدی ہو گیا اور وہ جو قریب تھے بالکل دور چلے گئے۔ان کی سمجھ میں بات آگئی اور ان کے دل سے ایمان جاتا رہا۔تو علم النفس کے رو سے ڈیبیٹس کرنا سخت مضر ہے اور بعض اوقات سخت نقصان کا موجب ہو جاتا ہے۔یہ ایسے باریک مسائل ہیں جن کو سمجھنے کی ہر مدرس اہلیت نہیں رکھتا۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا یہاں ایک ڈیبیٹ (DEBATE ہوئی اور جس کی شکایت مجھ تک پہنچی تھی۔اس میں اس امر پر بحث تھی کہ ہندوستان کے لئے مخلوط انتخاب چاہئے یا جداگانہ۔حالانکہ میں اس کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چکا ہوں اور یہ سوء ادبی ہے کہ اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ میں ایک امر کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چکا ہوں پھر اس کو زیر بحث لایا جائے۔جن امور میں خداتعالی یا اس کے رسول یا اس کے خلفاءاظہار راۓ کر چکے ہوں ، ان کے متعلق بحث کرنا گستاخی اور بے ادبی میں داخل ہے۔کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تو محض کھیل ہے۔لیکن کیا کوئی کھیل کے طور پر اپنے باپ کے سر میں جوتیاں مار سکتا ہے۔تو ڈیبیٹس(DEBATES) سے زیادہ حماقت کی کوئی بات نہیں۔ہر احمدی وفات مسیح کا قائل ہے مگر ڈیبیٹ کے لئے بعض حیات مسیح کے دلائل