مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 93

93 نہیں کر سکتے۔لیکن اگر ہم مزدوروں کے کام کا دسواں حصہ بھی کریں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ سال میں اڑھائی ہزار مزدوروں نے کام کیا اور اڑھائی ہزار مزدوروں کا کام بھی کوئی معمولی کام نہیں ہو تا۔اگر چھ آنے ہر مزدور کی یومہ اجرت فرض کی جائے تو قریباً ایک ہزار روپے کا کام ہم سال میں صرف چھ دن دے کر کر سکتے ہیں۔پس خدام الاحمدیہ کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا کام صرف اپنے تک ہی محدو! نہیں رکھنا چاہئے۔بلکہ بعض کام جن میں ساری جماعت کی شمولیت مفید نتائج پیدا کر سکتی ہو ان میں ساری جماعت کو شمولیت کا موقعہ دینا چاہئے۔پس میں قادیان کے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سال میں چھ دن ایسے مقرر کریں جن میں یہاں کی تمام جماعت کو کام کرنے کی دعوت دی جائے بلکہ مناسب یہی ہو گا کہ وہ ابتداء میں چھ دن ہی رکھیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں دو مہینہ میں ایک دن کام کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔مثلاً آخری جمعرات ہو تو اس دن عام اعلان کر دیا جائے کہ آٹھ دس سال کے بچوں سے لیکر ان بوڑھوں تک جو چل پھر سکتے اور کام کاج کر سکتے ہیں فلاں جگہ جمع ہو جائیں۔ان سے فلاں کام لیا جائے گا۔پھر پہلے سے پروگرام بنایا ہوا ہو و قار عمل کے کام کو خاص پروگرام کے تحت سرانجام دیا جائے کہ فلاں سڑک پر کام کرتا ہے۔فلاں جگہ سے مٹی لینی ہے۔اتنی بھرتی ڈالنی ہے۔اس اس ہدایت کو مد نظر رکھنا ہے۔۔اور جماعت کے انجنیز اس تمام کام کے نگران ہوں اور جماعت کے انجنیئر اس کام کی نگرانی کریں ان کا منظور کردہ نقشہ اوکوں کے سامنے ہو اور اس کے مطابق سب کو کام کرنے کی ہدایت دی جائے۔میں سمجھتا ہوں اگر پہلے سے ایک سکیم مرتب کر لی جائے تو آسانی سے بہت بڑا کام ہو سکتا ہے۔غرض حکیم اور نقشے پہلے تیار کر لیں اور اس دن جس طرح فوج پریڈ کرتی ہے اسی طرح ہر شخص حکم ملنے پر اپنے اپنے حلقہ کے ماتحت پریڈ پر آجائے۔دیکھو قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن اور کافر اپنے اپنے لیڈروں کے پیچھے آئیں گے۔رسول کریم ملی یا اللہ نے فرمایا ہے کہ اس دن ہر نبی اپنا اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا اور ہرنبی کے ساتھ اس کی امت ہو گی۔یہ نہیں ہو گا کہ قیامت کے دن شور پڑا ہوا ہو اور کوئی کدھر جا رہا ہو اور کوئی کدھر۔بلکہ ہر شخص اپنے اپنے لیڈر کے جھنڈے کے نیچے ہو گا۔اس میں در حقیقت اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ جب بہت بڑے اجتماع ہوں تو اس وقت حلقوں اور دائروں کا مقرر کرنا ضروری ہوتا ہے۔مثالا ہر محلہ والے اپنے اپنے محلہ کے پریذیڈنٹ یا کسی اور افسر کی ہدایات کے ماتحت کام کریں۔یا لوگوں کے حلقوں میں کوئی اور تقسیم ہو سکتی ہو تو وہ کرلی جائے۔ہر ماں یہ شخص کسی نہ کسی حلقہ میں ہو اور کام شروع کرنے ت دو دن پہلے ہر شخص کو بتا دیا جائے کہ تم نے فلاں حلقہ میں فلاں کام کرنا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس طریق پر اگر یک تو دونوں کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہو جا۔ہیں۔و سرے ے اس مشتر کہ جد و جہد کے نتیجہ میں کوئی مفید نام بھی ہو جائے گا۔اب دارا نت دا را فضل اور دوسرے محلوں کو دیکھ لو۔ان کی کلیاں