مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 818 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 818

818 کاموں کو سنبھال سکیں گے۔پس سلسلہ کی ضروریات اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے حوصلوں کو بلند کرو۔اگر انسان کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے حوصلہ کو گرادے اور سمجھے کہ میں کچھ نہیں کر سکتا تو یہ اس کی غلطی ہوتی ہے۔بے شک ایک انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ دنیا کو ہلا سکے لیکن وہ ہلانے کا ارادہ تو کر سکتا ہے اگر تم اپنے حوصلوں کو بلند کرو گے اور سستی اور غفلت کو چھوڑ کر اپنے اندر چستی پیدا کرو گے تو تھوڑے عرصہ میں ہی تم میں سے کئی نوجوان ایسے نکلیں گے جو پہلوں کی جگہ لے سکیں گے۔میں نے تحریک جدید میں نوجوانوں کو لگا کر دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں بلکہ شروع میں جن کے متعلق سمجھا تھا کہ ممکن ہے وہ اس کام کے اہل ثابت نہ ہو سکیں انہوں نے بھی جب محنت کی تو اپنے کام کو سنبھال لیا اور اب وہ خوب کام کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر عزم تھا اور انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہر ممکن کوشش کے ساتھ دین کی خدمت کریں گے۔آئندہ بھی ہماری جماعت کے نوجوانوں کو اپنی زندگیاں وقف کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ ہمیں اب سلسلہ کی ضروریات کے لئے بہت سے نئے آدمیوں کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس وقت ہمیں ایسے نوجوان درکار ہیں جن کو ہم انگلستان امریکہ اور دوسرے یورپین ممالک میں بھیج سکیں۔اس طرح افریقہ وغیرہ کے لئے ہمیں سینکڑوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔اس کے بعد ان کی جگہ نئے آدمی بھیجنے اور انہیں واپس بلانے کے لئے نہیں اور آدمیون کی ضرورت ہوگی اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائے گا۔پس نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ خدمت دین کے لئے آگے آئیں اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں بھی وقف کی تحریک کو مضبوط کریں۔ہمارے کاموں نے بہر حال بڑھنا ہے لیکن انہیں تکمیل تک اسی صورت میں پہنچایا جاسکتا ہے جب زیادہ سے زیادہ نوجوان خدمت دین کے لئے آگے آئیں۔ان نصائح کے ساتھ میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ہمارے کاموں میں برکت ڈالے اور وہ بوجھ جسے ہمارے کمزور اور ناتواں کندھے نہیں اٹھا سکتے ، اسے خود اٹھالے اور ہمیں اپنی موت تک اسلام اور احمدیت کی خدمت کی توفیق عطا کرتا چلا جائے۔ہم کمزور اور بے بس ہیں لیکن ہمارا خدا بڑا طاقتور ہے۔اس کے صرف کن کہنے کی دیر ہوتی ہے کہ زمین و آسمان میں تغیرات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اس لئے آؤ ہم اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کریں کہ وہ ہم پر اپنا فضل نازل فرمائے۔ہمیں اپنی رضا اور محبت کی راہوں پر چلائے اور ہمارے مردوں اور عورتوں اور بچوں کو اس امر کی توفیق بخشے کہ وہ دین کی خدمت کے لئے زیادہ سے زیادہ قربانیوں سے کام لیں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ر ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں منافقت سے بچائے۔ان کے ایمانوں کو مضبوط کرے۔ان کے دلوں میں اپنا سچا عشق پیدا کرے اور انہیں دین کی بے لوث خدمت کی اس رنگ میں توفیق بخشے جس رنگ میں صحابہ کرام کو ملی اور اللہ تعالی ان کی آئندہ نسلوں کو بھی دین کا سچا خادم اور اسلام کا بہادر سپاہی بنائے اور انہیں ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین" ( تقریر سالانہ جلسه فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۶۰ء مطبوعہ اخبار الفضل ۶ جنوری ۱۹۶۱ء)