مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 817
817 کو تو صرف چھلکا ہی ملا۔یہ تقسیم بالکل ویسی ہی تھی جیسے غزوہ حنین کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں میں اموال غنیمت تقسیم کئے تو ایک انصاری نوجوان نے بیوقوفی سے یہ فقرہ کہہ دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والوں کو دے دیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے تمام انصار کو جمع کیا اور فرمایا۔اے انصار مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال غنیمت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو دے دیا ہے انصار نہایت مخلص اور فدائی انسان تھے۔رسول کریم مالا مال لیلیوم کی یہ بات سن کر ان کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم ایسا نہیں کہتے۔ہم میں سے ایک بیوقوف نوجوان نے غلطی سے یہ بات کہہ دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار اگر تم چاہتے تو تم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے فتح و کامرانی بخشی اور اسے عزت کے ساتھ اپنے وطن میں واپس لایا مگر جب جنگ ختم ہو گئی اور مکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آگیا تو مکہ والے تو بکریوں اور بھیڑوں کے گلے ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور انصار خدا کے رسول کو اپنے گھر میں لے آئے۔اسی طرح بے شک صحابہ کے بعد آنے والوں کو بڑی بڑی دولتیں ملیں۔حکومتوں پر انہیں قبضہ ملا مگر جو روحانی دولت صحابہ کے حصہ میں آئی وہ بعد میں آنے والوں کو نہیں ملی۔پس خدمت دین کے اس اہم موقعہ کو جو تمہیں صدیوں کے بعد نصیب ہوا ہے ، ضائع مت کرو اور اپنے گھروں کو خد اتعالیٰ کی برکتوں سے بھر لو۔میں نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں جب کام شروع کیا تھا تو میرے ساتھ صرف چند ہی نوجوان رہ گئے تھے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو قابل اور ہو شیار سمجھتے تھے ، سب لاہور چلے گئے تھے اور ہمارے متعلق خیال کرتے تھے کہ یہ کم علم اور نا تجربہ کار لوگ ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ وہی لوگ جن کو وہ نا تجربہ کار سمجھتے تھے اللہ تعالٰی نے انہی سے ایسا کام لیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔اس وقت میری عمر چھبیس سال تھی۔میاں بشیر احمد صاحب کی عمر اکیس ساڑھے اکیس سال کی تھی۔اسی طرح ہمارے سارے آدمی ہیں اور تمہیں سال کے درمیان تھے مگر ہم سب نے کوشش کی اور محنت سے کام کیا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے جماعت کے کام کو سنبھال لیا۔اسی طرح اب بھی نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کا تہیہ کرلیں اور دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں۔اگر کسی نے صرف بی۔اے یا ایم۔اے کر لیا اور دینی تعلیم سے کو را رہا تو ہمیں اس کی دنیوی تعلیم کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔غیر مبائعین کے الگ ہونے کے بعد میرے ساتھ جتنے نو جوان رہ گئے تھے۔وہ کالجوں میں بھی پڑھتے تھے مگر وقت نکال کر دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے چنانچہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور صوفی غلام محمد صاحب اپنے پر ائیو یٹ اوقات میں دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ایم۔اے اور بی۔اے بھی کرلیا اور دینی تعلیم بھی مکمل کرلی۔میں سمجھتا ہوں اگر اب بھی ہم پوری طرح اس طرف توجہ دیں تو چند سال کے بعد ہی ہمیں ایسے مخلص نوجوان ملنے شروع ہو جائیں گے جو انجمن اور تحریک کے