مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 816
816 اسلام کی ترقی اور اشاعت میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لو ” ہماری جماعت کے ہر بچے ہر نوجوان ہر عورت اور ہر مرد کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے سپرد اللہ تعالیٰ نے اپنی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کا جو اہم کام کیا ہے اس سے بڑھ کر دنیا کی اور کوئی امانت نہیں ہو سکتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے گھروں کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔بعض لوگ بھیڑوں بکریوں کے گلے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔بعض لوگ گورنمنٹ کے خزانہ کے پہرہ دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں اور بعض لوگ فوجوں میں بھرتی ہو کر اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں لیکن جو چیز اللہ تعالٰی نے ہمارے سپرد کی ہے اس کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں بلکہ ان کو اس سے اتنی بھی نسبت نہیں جتنی ایک معمولی کنکر کو ہیرے سے ہو سکتی ہے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لو اس غرض کے لئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو خدمت دین کے لئے وقف کردو تاکہ ایک کے بعد دوسری نسل اور دوسری کے بعد تیسری نسل اس بوجھ کو اٹھاتی چلی جائے اور قیامت تک اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچال را تار ہے۔اس عظیم الشان مقصد کی سرانجام دہی کے لئے میں نے بیرونی ممالک کے لئے تحریک جدید اور اندرون ملک کے لئے صدرانجمن احمدیہ اور وقف جدید کے ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔دوستوں کو ان اداروں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا چاہئے اور نوجوانوں کو سلسلہ کی خدمت کے لئے آگے آنے کی تحریک کرنی چاہئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سادھو اور بھکاری تک بھی اپنے ساتھی تلاش کر لیتے ہیں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر تم اس عظیم الشان کام کے لئے دو سروں کو تحریک کرو تو تمہارا کوئی اثر نہ ہو۔اس وقت اسلام کی کشتی بھنور میں ہے اور اس کو سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچانا ہمارا کام ہے اگر ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو ہزاروں نوجوان کے لئے آگے آسکتے ہیں۔ہمیں اس وقت ہر قسم کے واقفین کی ضرورت ہے۔ہمیں گر یجو یوں کی بھی ضرورت ہے اور کم تعلیم والوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم ہر طبقہ تک اسلام کی آواز پہنچا سکیں۔اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ لو گے تو یقیناً اس کشتی کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ابدی حیات عطا فرمائے گا۔تمہارے بعد بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوں گے۔بڑے بڑے علماء پیدا ہوں گے۔بڑے بڑے صوفیا پیدا ہونگے۔بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے مگر یاد رکھو خدا تعالیٰ نے جو شرف ہمیں عطا فرمایا ہے ، بعد میں آنے والوں کو وہ میسر نہیں سکتا جیسے عالم اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر ہو مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابی کو بھی ملا اود ان بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوا۔ان بادشاہوں اور نوجوانوں کو بے تک، نیوی دوست ملی مگر اصل چیز تو صحابہ ہی کے حصے میں آئی۔باقی لوگوں خدمت دین