مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 808
808 کے لئے آخری دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تاکہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔اے خدا تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔اللهم امین اللهم امين - اللهم امین یہ عہد جو آپ لوگوں نے اس وقت کیا ہے متواتر چار صدیوں بلکہ چار ہزار سال تک جماعت کے نوجوانوں سے لیتے چلے جائیں اور جب تمہاری نئی نسل تیار ہو جائے تو پھر اسے کہیں کہ وہ اس عہد کو اپنے سامنے رکھے اور ہمیشہ اسے دہراتی چلی جائے اور وہ نسل یہ عہد اپنی تیسری نسل کے سپرد کر دے اور اس طرح ہر نسل اپنی اگلی نسل کو تاکید کرتی چلی جائے۔اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو جلسے ہو اکریں ان میں بھی مقامی جماعتیں خواہ خدام کی ہوں یا انصار کی یہی عہد دوہرایا کریں یہاں تک کہ دنیا میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے اور اسلام اتنا ترقی کرے کہ دنیا کے چپہ چپہ پر پھیل جائے۔مجھے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے رویا میں دکھایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا نور ایک سفید پانی کی شکل میں دنیا میں پھیلنا شروع ہوا ہے یہاں تک کہ پھیلتے پھیلتے وہ دنیا کے گوشے گوشے اور اس کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔اس وقت میں نے بڑے زور سے کہا کہ۔"احمدیوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتے ہوئے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان یہ نہیں کہے گا کہ اے میرے رب! اے میرے رب ! تو نے مجھے کیوں پیا سا چھوڑ دیا بلکہ وہ یہ کہے گا کہ اے میرے رب! اے میرے رب! تو نے مجھے سیراب کر دیا یہاں تک کہ تیرے فیضان کا پانی میرے دل کے کناروں سے اچھل کر بنے لگا۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور ہمیشہ دین کے پھیلانے کے لئے قربانیاں کرتے چلے جاؤ مگر یا د رکھو کہ قومی ترقی میں سب سے بڑی روک یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ افراد کے دلوں میں روپیہ کا لالچ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ طوعی قربانیوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔تمہارا فرض ہے ہے کہ تم ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر تو کل رکھو۔وہ تمہاری غیب سے مدد کرے گا اور تمہاری مشکلات کو دور کر دے گا بلکہ تمہارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان بھی کیا ہوا ہے کہ اس نے ایک انجمن بنادی ہے جو تمام مبلغین کو با قاعدہ خرچ دیتی ہے مگر گذشتہ زمانوں میں جو مبلغین ہوا کرتے تھے ان کو کوئی تنخواہیں نہیں دیتا تھا۔بعض دفعہ ہندوستان میں ایران سے دو دو سو مبلغ “ یا ہے مگر وہ سارے کے سارے اپنے اخراجات خود برداشت کرتے تھے اور کسی دوسرے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے۔