مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 805
805 سمجھنا چاہئے کہ قیامت تک جد وجہد کرنا صرف ایک خیالی بات ہے بلکہ حقیقتاً یہ آپ لوگوں کا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عائد کیا گیا ہے کہ قیامت تک آپ لوگ اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند رکھیں یہاں تک کہ دنیا میں اسلام اور احمدیت عیسائیت سے بہت زیادہ پھیل جائے اور تمام دنیا کی بادشاہتیں اسلام اور احمدیت کی تابع ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ مجھے ایک دفعہ عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور جن میں سے بعض ہندوستان کے تھے ، بعض عرب کے بعض فارس کے بعض شام کے “ بعض روم کے اور بعض دوسرے ممالک کے اور مجھے بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کریں گے اور تجھ پر ایمان لائیں گے۔اگر اللہ تعالی چاہے اور ان پیشگوئیوں کے مطابق روس ، جرمنی امریکہ اور انگلستان کے بادشاہ یا پریذیڈنٹ احمدی ہو جائیں تو خدا کے فضل سے ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی اور اسلام کے مقابلہ میں باقی سارے مذاہب بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کل دنیا کے اکثر ممالک میں بادشاہتیں ختم ہو چکی ہیں مگر پریذیڈنٹ بھی بادشاہوں کے ہی قائم مقام ہیں پس اگر مختلف ملکوں کے پریذیڈنٹ ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں تو یہ پیشگوئی پوری ہو جاتی ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ متواتر اور مسلسل جد وجہد کی جائے اور تبلیغ اسلام کے کام کو جاری رکھا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے نوح بھی قرار دیا گیا ہے اور حضرت نوح کی عمر جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے ، ساڑھے نو سو سال تھی جو در حقیقت ان کے سلسلہ کی عمر تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز تھے جو تمام نبیوں سے افضل تھے اور حضرت نوح سبھی ان میں شامل تھے پس اگر نوح کو ساڑھے نو سو سال عمر ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروزاور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو ساڑھے نو ہزار سال عمر ملنی چاہئے اور اس عرصہ تک ہماری جماعت کو اپنی تبلیغی کوششیں وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانا چاہئے۔میں اس موقعہ پر وکالت تبشیر کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بیرونی مشنوں کی رپورٹیں باقاعدگی کے ساتھ شائع کیا کرے تاکہ جماعت کو یہ پتہ لگتا رہے کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کے لئے کیا کیا کوششیں ہو رہی ہیں اور نوجوانوں کے دلوں میں اسلام کے لئے زندگیاں وقف کرنے کا شوق پیدا ہو۔مگر جہاں یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام ضروری ہے وہاں پاکستان اور ہندوستان میں اصلاح وارشاد کے کام کو وسیع کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے جس سے ہمیں کبھی غفلت اختیار نہیں کرنی چاہئے۔دنیا میں کوئی درخت سرسبز نہیں ہو سکتا جس کی جڑیں مضبوط نہ ہوں پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان اور ہندوستان میں بھی جماعت کو مضبوط کرنے کی کوششیں کریں۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی ہے جس کا نتنا مضبوط ہو اور اس کے نتیجہ میں اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی