مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 802 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 802

802 انسان کو کسی کام کی دھت لگ جائے تو وہ اس میں ترقی حاصل کر لیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے بعض مولوی بھی اپنی مدد کے لئے رکھے ہوئے تھے مگر ان کی باتوں کو استعمال کرنے کے لئے بھی تو لیاقت کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ہمارے ملک میں سینکڑوں مولوی پھرتے ہیں وہ کیوں کوئی تفسیر نہیں لکھ سکتے۔ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے بھی اسی شوق کی وجہ سے ترقی کی اور اس نے قرآن کی تفسیر لکھ دی۔اس نے حضرت خلیفہ اول سے قرآن سیکھا اور آپ کے درسوں میں شامل ہو تا رہا۔پھر خود بھی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا اور آخر اتنی ترقی کرلی کہ مفسر بن گیا۔پس جماعت کے سب دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی کوشش اور جدوجہد اور نیک نمونہ کے ذریعہ سے عیسائیت کو شکست دینے کی کوشش کریں۔یہ مت سمجھو کہ عیسائیت تو ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ہم اس کو شکست دینے میں کسی طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔آج ہی میں قرآن پڑھ رہا تھا کہ مجھے اس میں پیشگوئی نظر آئی کہ عیسائیت آخر شکست کھائے گی اور وہ دنیا سے مٹادی جائے گی۔پس عیسائیت کی ظاہری ترقی کو دیکھ کر مت گھبراؤ اللہ تعالی اسلام کی ترقی کے سامان پیدا فرمائے گا اور کفر کو شکست دے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اندر ایمان پیدا کرو اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ جس کے لئے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے"۔(فرمودہ 1 جولائی ۱۹۵۸ مطبوعہ اخبار الفضل ۲۵ جولائی ۱۹۵۸ء) " سینما بینی سے بچنے کی تلقین چند دن ہوئے مجھے ملتان سے ایک دوست کا خط آیا کہ احمدی نوجوانوں میں سینمادیکھنے کا رواج پھر بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ اس کی روک تھام کی جائے۔مجھے اس پر تعجب آتا ہے کہ یہ نوجوان اتنے جاہل کیوں ہو گئے کہ انہیں اپنی تاریخ کا بھی پتہ نہیں۔اگر وہ پڑھے لکھے ہوتے اور انہیں اپنی تاریخ سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو انہیں معلوم ہو تاکہ بغداد بھی کانے بجانے سے تباہ ہوا ہے۔" فرموده ۲۸ اگست ۱۹۵۸ء مطبوعہ اخبار الفضل ۱۴ستمبر ۱۶۱۹۵۸