مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 800
800 جماعت کے نوجوانوں کو یا درکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد عیسائیت کا استیصال ہے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عیسائیت کے فتنہ کے استیصال کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے مبعوث فرمایا گیا ہے اور ہماری جماعت کا بھی فرض ہے کہ وہ عیسائیت کو مٹانے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتی رہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو قیامت تک نہیں رہنا تھا لیکن عیسائیوں کا فتنہ ایک لمبے عرصہ تک رہنا تھا۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے سپرد یہ کام کیا گیا تو در حقیقت یہ کام آپ کی جماعت کے سپرد کیا گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام تو جب تک زندہ رہے عیسائیت کی تردید فرماتے رہے لیکن اب یہ ہماری جماعت کا کام ہے کہ وہ عیسائیوں کے فتنہ کو دور کرے اور اس کام کو تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض نوجوان عیسائیوں سے ڈر کر ان کا تمدن اختیار کر لیتے ہیں اور پھر اس پر بڑا فخر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بڑا اچھا کام کیا ہے حالا نکہ جب وہ عیسائیت کی نقل کرتے ہیں تو اپنے آپ پر لعنت کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے منہ سے اپنے دین کو جھوٹا قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ہماری جماعت کے نوجوانوں کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں بارہا تحریر فرمایا ہے کہ مجھے خدا نے عیسائیت کے استیصال کے لئے معبوث فرمایا ہے اور یہ کام صرف آپ کی ذات کے ساتھ مخصوص نہیں تھا بلکہ آپ کے سپرد اس عظیم الشان کام کے کرنے کے یہ معنے تھے کہ آپ کے بعد آپ کی جماعت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ اس کام کو سنبھالے اور عیسائیت کو مٹانے کی کوشش کرے۔چنانچہ آپ لوگوں میں سے ہی کچھ نوجوان افریقہ گئے اور وہاں انہوں نے عیسائیت کے خلاف ایسی جد وجہد کی کہ یا تو ایک زمانہ ایسا تھا جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ سارا افریقہ عیسائی ہو جائے گا اور یا آج ہی ایک اخبار میں ایک انگریز خاتون کا مضمون پڑھا جس میں اس نے لکھا ہے جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام افریقہ میں بڑی سرعت سے پھیل رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ جماعت جو پہلے پہل ٹانگانیکا میں پھیلنی شروع ہوئی تھی، اب مشرقی افریقہ کے اکثر علاقوں میں پھیلتی ہوئی نظر آرہی ہے۔(سنڈے ٹائمز لنڈن ۲۵ مئی ۱۹۵۸ء اسلام کی یہ تبلیغ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغوں کی وجہ سے ہی ہو رہی ہے۔۲۷ء میں ہم نے وہاں مشن قائم کئے تھے جن پر اب اکتیس سال کا عرصہ گذر رہا ہے۔اس عرصہ میں خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کی