مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 795 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 795

795 کر دیا کہ کیا ہم ہی یہ کام کرنے کے لئے رہ گئے ہیں تو یہ نہایت خطرناک بات ہوگی۔مساجد نہ بنانا اور گرجوں کو بڑھنے دینا ایسی بڑی آفت ہے کہ جسے آپ لوگ برداشت نہیں کر سکتے۔ساری دنیا کے لوگ آپ پر ملامت کریں گے۔مشرق و مغرب کے وہ لوگ جو آج یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی احمدیوں پر اپنی رحمت نازل کرے کہ انہوں نے ہمیں مساجد بنا کر دیں اور ہمیں اسلام کے نور سے منور کیا، پھر وہ کہیں گے خدا احمدیوں کو غارت کرے کہ انہوں نے ہمیں روشنی تو دکھائی لیکن ایک دفعہ روشنی دکھانے کے بعد پھر اندھیرا کر دیا۔روشنی کے بعد اندھیرا اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔وہ کہیں گے احمدیوں نے ہمیں اور زیادہ مصیبت میں ڈال دیا ہے پس آپ لوگوں کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ کسی وقت بھی ہمت نہ ہاریں بلکہ اپنے منصب کو سمجھیں کہ خدا تعالٰی نے اس زمانے میں آپ لوگوں کو اس کام کے لئے چنا ہے اور آپ کو ہی یہ کام سرانجام دینا ہے۔آپ لوگ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔دعاؤں میں لگے رہیں اور خواہ آپ کو کتنی بھی محنت کرنی پڑے اور کتنی بھی تکلیف اٹھانی پڑے آپ اس سے جی نہ چرائیں بلکہ اس میں راحت محسوس کریں اور یوں سمجھیں کہ خدمت اسلام کے لئے تکلیفیں اٹھانا اور مصیبتیں جھیلنا آپ کے لئے فخر کا موجب ہے۔اگر یہ بات آپ لوگوں نے اپنے اندر پیدا کر لی تو آپ کو قیامت تک خدمت اسلام کی توفیق ملتی چلی جائے گی۔۔۔۔اس ضمن میں رسول کریم ملی وی کے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے حضور نے ان کی بے مثال قربانیوں اور جاں نثاری و فداکاری کے نہایت ایمان افروز واقعات بیان فرمائے ہیں اور بتایا کہ صحابہ کرام نے صہیب سے صہیب خطرہ کا دلیری سے مقابلہ کیا اور اس راہ میں انہیں جو دکھ بھی پہنچا اور جو مصیبت بھی جھیلنی پڑی اسے انہوں نے ایک انعام سمجھا اور اس پر ہمیشہ فخر کیا۔کوئی دکھ ایسا نہ تھا جسے انہوں نے دکھ سمجھا ہو کوئی مصیبت ایسی نہ تھی جسے انہوں نے مصیبت سمجھا ہو۔جتنی زیادہ مصیبتیں اور تکلیفیں انہیں جھیلنی پڑتی تھیں، وہ اتنا ہی زیادہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کا اعزاز بڑھ رہا ہے۔وہ ان مصائب میں بھی خوشی سے بھولے نہیں سماتے تھے۔جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خطرہ پیش آیا ، انہوں نے ہنسی خوشی اپنی جانیں تک نچھاور کر دیں۔حضور نے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔پس آپ لوگوں کو بھی جب دین کی راہ میں مشکلات پیش آئیں اور مصیبتیں جھیلنی پڑیں تو اس کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ آپ لوگ ہمت ہار کر بیٹھ جائیں بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ آپ لوگ ان مشکلات اور مصائب کو خدا تعالٰی کا انعام سمجھتے ہوئے اور بھی زیادہ جوش اور اور بھی زیادہ اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی میں لگ جائیں۔والنزعات غرقا میں یہی بتایا گیا ہے کہ جب مشکلات آتی ہیں تو مومن اپنے کام میں اور بھی زیادہ محو ہو جاتا ہے اور اس کے استغراق کا یہ عالم ہو تا ہے کہ اسے دنیا و مافیہا کی کچھ خبر نہیں رہتی۔پس اپنے اندر اخلاص پیدا کرو۔سچائی کے جوش کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے ، اس کو ادا کرنے میں اپنا تن من دھن سب کچھ لگا دو۔اگر تمہاری ان کوششوں اور اخلاص کے نتیجہ میں کم سے کم ہم میں سے ہر ایک کو اسلام کا قریب آنے والا غلبہ دکھائی دینے لگ جائے تو پھر ہم