مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 791
791 اسی قدر چندہ لے لینا غنیمت سمجھتے ہیں۔مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جس طرح پہلے لوگوں نے ایک آنہ سے مدد شروع کی تھی اور پھر سینکڑوں روپیہ دینے لگ گئے۔اسی طرح تم بھی اپنی قربانیوں میں ترقی کرتے چلے جاؤ گے۔چنانچہ جب تحریک جدید کا آغاز ہوا تو پہلے سال میں نے نو سو تھیں روپیہ دیا۔اس کے بعد بڑھاتے بڑھاتے دسویں سال میں نے دس ہزار روپیہ دیا جو اب تک برابر ہر سال دیتا آرہا ہوں مگر اب میں محسوس کرتا ہوں کہ دس ہزار روپیہ بھی کم ہے۔شروع میں زمینوں کی جتنی آمد ہوتی تھی، وہ ساری خرچ ہو جاتی تھی مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ کام منظم ہو جانے کی وجہ سے آمد بڑھ گئی ہے اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنا چندہ بڑھانا چاہئے غرض جب بھی کوئی انسان نیکی کی طرف اپنا قدم بڑھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے مزید قدم اٹھانے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔یہ تحریک بائیں سال سے جاری ہے اور اب تک دو لاکھ ستر ہزار روپیہ میں تحریک جدید میں دے چکا ہوں اسی طرح ایک مخلص دوست نے ایک دفعہ مجھے بہت بڑا نذرانہ دے دیا۔میں نے سمجھا کہ اتنا بڑا نذرانہ مجھے اپنی ذات پر استعمال کرنے کی بجائے سلسلہ کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے وہ سارے کا سارا نذرانہ اسلام کی اشاعت کے لئے دے دیا مگر اس کے باوجود میری نیت یہی ہے کہ میں اپنے چندے کو بڑھا دوں۔میں اب تک صرف اس لئے رکا رہا کہ ولایت جانے کی وجہ سے مجھ پر قرض زیادہ ہو گیا تھا جس کا اتارنا ضروری تھا بلکہ اب جبکہ جماعت نے ہیمبرگ کی بیت کے لئے چندہ جمع کرنے میں بستی دکھائی ہے، میں سوچ رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے تو میں اکیلا ہی اپنے خرچ پر مغربی ممالک میں ایک بیت بنوادوں تاکہ اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند ہو تا رہے۔اب آخر میں میں دعا کر کے آپ لوگوں کو رخصت کرتا ہوں کیونکہ بیماری کی وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا۔فرموده ۲۴ فروری ۱۹۵۷ء بمقام کراچی مطبوعہ اخبار الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۵۷ء)