مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 782
782 ہاتھ میں آگئی ہے اس لئے جماعت آج نہیں تو کل تباہ ہو جائے گی لیکن اس بچہ نے بیالیس سال تک پیغامیوں کا مقابلہ کر کے جماعت کو جس مقام تک پہنچایا وہ تمہارے سامنے ہے۔شروع میں ان لوگوں نے کہا تھا کہ اٹھانوے فی صدی احمدی ہمارے ساتھ ہیں لیکن اب وہ دکھائیں کہ جماعت کا اٹھانوے فی صدی جو ان کے ساتھ تھا کہاں ہے ؟ کیا وہ اٹھانوے فی صدی احمدی ملتان میں ہیں ، لاہور میں ہیں ، آخر وہ کہاں ہیں۔کہیں بھی دیکھ لیا جائے ان کے ساتھ جماعت کے دوفی صدی بھی نہیں نکلیں گے۔مولوی نور الحق صاحب انور مبلغ امریکہ کی الفضل میں چٹھی چھپی ہے کہ عبد المنان نے ان سے ذکر کیا کہ پشاور سے بہت سے پیغامی انہیں لینے کے لئے آئے۔امیر جماعت احمد یہ پشاور یہاں آئے۔میں نے انہیں کہا کہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کا جواب چھپا ہے آپ وہ کیوں نہیں خریدتے تو انہوں نے کہا پشاور میں دو سے زیادہ پیغامی نہیں ہیں لیکن ان کے مقابل پر وہاں ہماری دو مساجد بن چکی ہیں اور خدا تعالٰی کے فضل سے جماعت وہاں کثرت سے پھیل رہی ہے۔پیغامیوں کا وہاں یہ حال ہے کہ شروع شروع میں وہاں احمدیت کے لیڈر پیغامی ہی تھے لیکن اب بقول امیر صاحب جماعت احمد یہ پشاو روہاں دو پیغامی ہیں۔پس میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد کسی لالچ میں آگئی ہے۔کیا صرف ایک مضمون کا پیغام صلح میں چھپ جانا ان کے لئے لالچ کا موجب ہو گیا۔اگر یہی ہوا تو یہ کتنی ذلیل بات ہے۔اگر پاکستان کی حکومت یہ کہہ دیتی کہ ہم حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد کو مشرقی پاکستان کا صوبہ دے دیتے ہیں یا وہ کہتے کہ انہیں مغربی پاکستان دے دیتے ہیں ، تب تو ہم سمجھ لیتے کہ انہوں نے اس لالچ کی وجہ سے جماعت میں تفرقہ اور فساد پیدا کرنا منظور کر لیا ہے لیکن یہاں تو یہ لالچ بھی نہیں۔حضرت خلیفہ اول ایک مولوی کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ اس نے ایک شادی شدہ لڑکی کا نکاح کسی دوسرے مرد سے پڑھ دیا۔لوگ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے پاس آئے اور کہنے لگے فلاں مولوی جو آپ سے ملنے آیا کرتا ہے اس نے فلاں شادی شدہ لڑکی کا نکاح فلاں مرد سے پڑھ دیا ہے۔مجھے اس سے بڑی حیرت ہوئی اور میں نے کہا کہ اگر وہ مولوی صاحب مجھے ملنے آئے تو میں ان سے ضرور دریافت کروں گا کہ کیا بات ہے چنانچہ جب وہ مولوی صاحب مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے ذکر کیا کہ آپ کے متعلق میں نے فلاں بات سنی ہے۔میرا دل تو نہیں مانتا لیکن چونکہ یہ بات ایک معتبر شخص نے بیان کی ہے اس لئے میں اس کا ذکر آپ سے کر رہا ہوں۔کیا یہ بات درست ہے کہ آپ نے ایک شادی شدہ عورت کا ایک اور مرد سے نکاح کر دیا ہے۔وہ کہنے لگا مولوی صاحب تحقیقات سے پہلے بات کرنی درست نہیں ہوتی۔آپ پہلے مجھ سے پوچھ تو لیں کہ کیا بات ہوئی ہے۔میں نے کہا اسی لئے تو میں نے اس بات کا آپ سے ذکر کیا ہے۔اس پر وہ کہنے لگا بے شک یہ درست ہے کہ میں نے ایک شادی شدہ عورت کا دوسری جگہ نکاح پڑھ دیا ہے لیکن مولوی صاحب ! جب انہوں نے میرے ہاتھ پر چڑیا جتنا روپیہ رکھ دیا تو پھر میں کیا کرتا۔پس اگر حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد کو حکومت پاکستان یہ لالچ دے دیتی کہ مشرقی پاکستان یا مغربی پاکستان تمہیں دے دیا جائے گا تو ہم سمجھ لیتے