مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 69
69 حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب دہلی تشریف لائے اور آپ یہاں کے بزرگوں کے مزارات پر تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا یہاں اتنے اولیاء اللہ دفن ہیں کہ اگر یہاں کے زندے توجہ نہ کریں گے تو ان بزرگوں کی رو میں تڑپ تڑپ کر فریاد کریں گی اور خدا تعالیٰ کا کام پورا ہو کر رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہشات میں سے ایک خواہش یہ بھی تھی کہ دہلی احمدیت کو قبول کرنے سے محروم نہ رہے۔پس سمجھ لو کہ آپ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے کتنی عظیم الشان کو ششوں کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ میں جب لکھنو طب پڑھنے کے لئے گیا تو مجھ سے میرے استاد نے پوچھا کہ تمہارا کہاں تک طب پڑھنے کا ارادہ ہے۔مجھے اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ سب سے بڑا طبیب کون گذرا ہے۔مگر میرے منہ سے بے ساختہ نکالا کہ افلاطون کے بر ابر - افلاطون اگر چہ فلاسفر تھا مگر ان کے استاد نے کہا شاباش تم نے بڑے آدمی کا نام لیا ہے اس سے تمہارا ارادہ بہت بلند معلوم ہوتا ہے، تم کچھ نہ کچھ ضرور بن جاؤ گے ایسا عزم اور ارادہ رکھنے والے نوجوانوں کی اب بھی ضرورت ہے۔یاد رکھو حقیقی انسان وہی ہے جس کے مرنے پر لوگوں کو یہ خیال ہو کہ آج فلاں کی موت سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے اس کو پر کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔میں نے دیکھا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں کی تربیت میں ابھی بہت نقص ہے اور اس طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے مجھے اکثر بچوں کی پیشانی پر ابھی وہ بات نظر نہیں آتی جو ان کے نور ایمان کو کامل طور پر ظاہر کرنے والی ہو۔بہت تھوڑے بچے اور نوجوان میں نے ایسے دیکھے ہیں جن کی پیشانی پر میں نے اھدنا الصراط المستقیم لکھا ہوا دیکھا ہو اور وہ خدا تعالیٰ کے انعامات کو حاصل کرنے کے لئے پوری جد و جہد کرتے ہوں۔(خطبه جمعه فرموده ۲۸ اکتوبر ۱۹۳۸ء مقام دہلی الفضل ۱۵ جون ۱۹۶۰ء)