مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 762 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 762

762 ہوں۔ہم نے کہا ہم نے تجھ سے وفاداری کا عہد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ہمیں معلوم ہے کہ پیغامی تمہارے باپ کو غاصب کا خطاب دیتے تھے۔وہ انہیں جماعت کا مال کھانے والا اور حرام خور قرار دیتے تھے۔تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں ان پیغامیوں کو جانتا ہوں، یہ میرے باپ کو گالیاں دیتے تھے۔یہ آپ کو غاصب اور منافق کہتے تھے۔میں ان کو قطعی اور یقینی طور پر باطل پر سمجھتا ہوں مگر اس بات کا اعلان کرنے کی اسے توفیق نہ ملی۔پھر اس نے لکھا کہ میں تو خلافت حقہ کا قائل ہوں۔اسے یہ جواب دیا گیا کہ اس کے تو پیغامی بھی قائل ہیں۔وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم خلافت حقہ کے قائل ہیں لیکن ان کے نزدیک خلافت حقہ اس نبی کے بعد ہوتی ہے جو بادشاہ بھی ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بادشاہ بھی تھے اس لئے ان کے نزدیک آپ کے بعد خلافت حقہ جاری ہوئی اور حضرت ابو بکر حضرت عمر، حضرت عثمان حضرت علی خلیفہ ہوئے لیکن مرزا صاحب چونکہ بادشاہ نہیں تھے اس لئے آپ کے بعد وہ خلافت تسلیم نہیں کرتے۔پس یہ بات تو پیغامی بھی کہتے ہیں کہ وہ خلافت حقہ کے قائل ہیں۔تم اگر واقعی جماعت احمدیہ میں خلافت حقہ کے قائل ہو تو پھر یہ کیوں نہیں لکھتے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کو تسلیم کرتا ہوں اور جو آپ کے بعد خلافت کے قائل نہیں ، انہیں لعنتی سمجھتا ہوں۔پھر تم یہ کیوں نہیں لکھتے کہ خلافت حقہ صرف اسی نبی کے بعد نہیں ہے نبوت کے ساتھ بادشاہت بھی مل جائے بلکہ اگر کوئی نبی غیر بادشاہ ہو تب بھی اس کے بعد خلافت حقہ قائم ہوتی ہے۔تمہارا صرف یہ لکھنا کہ میں خلافت حقہ کا قائل ہوں، ہمارے مطالبہ کو پورا نہیں کرتا۔ممکن ہے تمہاری مراد خلافت حقہ سے یہ ہو کہ جب میں خلیفہ بنوں گا تو میری خلافت خلافت حقہ ہو گی یا خلافت حقہ سے تمہاری یہ مراد ہو کہ میں تو اپنے باپ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی خلافت کا قائل ہوں یا تمہاری یہ مراد ہو کہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی خلافت کا قائل ہوں۔بہر حال عبد المنان کو امریکہ سے واپس آنے کے بعد تین ہفتہ تک ان امور کی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اگر وہ لکھ دیتا کہ پیغامی لوگ میرے باپ کو غاصب، منافق اور جماعت کا مال کھانے والے کہتے رہے ہیں، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں تو پیغامی اس سے ناراض ہو جاتے اور اس نے یہ امیدیں لگائی ہوئی تھیں کہ وہ ان کی مدد سے خلیفہ بن جائے گا اور اگر وہ لکھ دیتا کہ جن لوگوں نے خلافت ثانیہ کا انکار کیا ہے، میں انہیں لعنتی سمجھتا ہوں تو اس کے وہ دوست جو اس کی خلافت کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں اس سے قطع تعلق کر جاتے اور وہ ان سے قطع تعلقی پسند نہیں کرتا تھا اس لئے اس نے ایسا جواب دیا ہے جسے پیغام صلح نے بڑے شوق سے شائع کر دیا۔اگر وہ بیان خلافت ثانیہ کی تائید میں ہو تا تو پیغام صلح اسے کیوں شائع کرتا۔اس نے بھلا گزشتہ بیالیس سال میں کبھی میری تائید کی ہے۔انہوں نے سمجھا کہ اس نے جو مضمون لکھا ہے وہ ہمارے ہی خیالات کا آئینہ دار ہے اس لئے اسے شائع کرنے میں کیا حرج ہے چنانچہ جماعت کے بڑے لوگ جو سمجھدار ہیں وہ تو الگ رہے، مجھے کالج کے ایک سٹوڈنٹ نے لکھا کہ پہلے تو ہم سمجھتے تھے کہ شاید کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے لیکن ایک دن میں بیت الذکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ پیغام صلح میں میاں عبد المنان کا کوئی پیغام چھپا ہے تو میں نے ایک دوست سے کہا میاں ذرا ایک