مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 756 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 756

756 میرے نشانات کو دیکھو۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لوگ نئے نشانات کے محتاج تھے تو اب بھی محتاج ہیں اور اگر ایسے نوجوان ہماری جماعت میں ترقی کرتے چلے جائیں اور وہ بیسیوں سے سینکڑوں اور سینکڑوں سے ہزاروں ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری کی یہ عادت ہوا کرتی تھی کہ ذرا کسی آریہ اور کسی مخالف سے بات ہوئی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نقل میں بڑی دلیری سے کہہ دیتے کہ اگر تمہیں اسلام کی صداقت میں شبہ ہے تو آؤ اور مجھ سے شرط کر لو۔اگر پندرہ دن کے اندر اندر مجھے کوئی الہام ہوا اور وہ پورا ہو گیا تو تمہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور پھر اشتہار لکھ کر اس کی دکان پر لگا دیتے چنانچہ کئی دفعہ ان کا الہام پورا ہو جاتا اور پھر وہ آریہ ان سے چھپتا پھر ناکہ اب یہ میرے پیچھے پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ مسلمان ہو جاؤ۔تو اگر یہ نمونے قائم رہیں تو غیر مذاہب پر ہمیشہ کے لئے اسلام اور احمدیت کی فوقیت ثابت ہو سکتی ہے اور اگر یہ نمونے نہ رہیں یا ہماری جماعت کے دوست اس عارضی دھکہ کو جو میری بیماری کی وجہ سے انہیں پہنچا ہے ، اپنی مستقل نیکی اور توجہ الی اللہ کا ذریعہ نہ بنائیں تو ہو سکتا ہے کہ اس میں وقفہ پڑ جائے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد وقفہ پڑا اور اسلام لوگوں کو صرف ایک قصہ نظر آنے لگا لیکن اگر انہوں نے اس انعام کو مستقل بنالیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ برکات جاری رہے گا اور ایک سے دوسرے اور دو سرے سے تیسرے تک یہ سلسلہ اسی طرح پہنچے گا جیسے بچپن میں ہم کھیلا کرتے تھے تو امینوں کی ایک لمبی قطار کھڑی کر دیتے تھے۔پھر ایک اینٹ کو دھکا دیتے تو وہ دوسری پر گرتی ، وہ تیسری پر گرتی اور اس طرح سودو سو انیٹیں جو ایک قطار میں کھڑی ہوتی تھیں ، گرتی چلی جاتی تھیں۔اگر ہمارے نوجوانوں میں بھی یہ روح قائم رہے اور پھر ان سے اگلے نوجوانوں میں بھی یہی روح پیدا ہو جائے اور پھر ان سے اگلوں میں یہ روح منتقل ہو جائے تو قیامت تک ہماری جماعت میں رویاء و کشوف اور الہامات کا سلسلہ جاری رہے گا اور سارا ثواب ان نوجوانوں کو ملے گا جو اس سلسلہ کو شروع کرنے والے ہوں گے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے اسلام دنیا میں سربلند ہو تا چلا جائے گا۔دیکھو عیسائیت کتنا ناقص مذہب ہے مگر پچھلے دنوں عیسائیوں کا ایک وفد امریکہ سے آیا جو لوگوں سے کہتا پھر تا تھا کہ آؤ اور ہم سے دعائیں کراؤ۔ہماری دعاؤں سے مریض اچھے ہو جاتے ہیں چونکہ کئی وہمی ایسے ہوتے ہیں جنہیں اگر کہہ دیا جائے کہ تم اچھے ہو جاؤ گے تو وہ بھی کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں بڑا فائدہ ہوا اس لئے انہوں نے اس سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا حالانکہ قبولیت دعا کا اصل معیار وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیش فرمایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ سو دو سو ایسے مریض لے لئے جائیں جو شدید امراض میں مبتلا ہوں یا جنہیں ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا ہو اور پھر قرعہ کے ذریعہ ان کو آپس میں تقسیم کر لیا جائے اور ان کی شفا کے لئے دعا کی جائے۔پھر جس کی دعا سے زیادہ مریض اچھے ہو جائیں وہ سچا سمجھا جائے لیکن یہ کوئی طریق نہیں کہ ایک