مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 755 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 755

755 پہل احمدیت کی طرف مائل ہوا تھا تو مجھ پر بڑے بڑے روحانی انکشافات ہو ا کرتے تھے مگر اب وہ بات نہیں رہی۔میں نے کہا کبھی آپ بازار گئے ہیں ، آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب کوئی مٹھائی والے کی دکان پر جا کر کھڑا ہو تا ہے تو دکاندار سے کہتا ہے کہ خان صاحب یا شاہ صاحب آپ تھوڑی سی و ندگی لے لیں چنانچہ وہ تھوڑی سی مٹھائی اسے چکھنے کے لئے دے دیتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے یہ مٹھائی چکھے تو خرید لے اسی طرح اللہ تعالٰی بھی حلوائی کی طرح شروع شروع میں وندگی دیا کرتا ہے جیسے دکاندار کہتا ہے کہ ذرا جلیبیاں چکھ لیں یا لڈو چکھیں اور اگر کوئی ناواقف ہاتھ کھینچے تو وہ کہتا ہے نہیں نہیں یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔یہی کیفیت روحانیات میں بھی ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شخص روزانہ دکان پر جا کر کھڑا ہو جائے اور یہ امید رکھے کہ اسے رو زو ندگی ملتی چلی جائے تو دکاندار سمجھے گا کہ یہ بڑا بے حیاء ہے اور وہ اسے چکھنے کے لئے بھی مٹھائی نہیں دے گا اسی طرح جب کوئی شخص اللہ تعالٰی کی طرف اپنا قدم بڑھاتا ہے تو اللہ تعالٰی بھی اپنے بندے کو دوندگی دیتا ہے اور اس کی زندگی یہی ہوتی ہے کہ کبھی الهام نازل کر دیا یا کشف دکھا دیا یا کچی خواب دکھادی مگر اس کے بعد انسان کو خود کوشش اور جد وجہد کرنی پڑتی ہے۔اگر وہ درود پڑھے ، تسبیح و تحمید کرے ، قرآن کریم کی تلاوت کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا رہے کہ الٹی میرے دل کو صاف کر دے تاکہ میں تیری آواز کو سن سکوں تو پھر بعد میں بھی مستقل طور پر یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندہ سے خوش ہوتا ہے جیسے مٹھائی فروش جو پہلے دن وندگی دیتا ہے اگر اس سے دوسرے دن کئی سو روپیہ کی مٹھائی لے لے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے مگر جسے مٹھائی کی عمدگی کا کچھ پتہ ہی نہیں ہو تا دوکاندار سے ابتداء میں تھوڑی سی چکھاتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کا خریدار بن جائے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی کبھی وحی و الهام مفت دے دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے مزے کو چکھ کر بندہ اس کو خریدنے کی کوشش کرے۔اگر وہ نہیں خرید تا تو خدا تعالی کہتا ہے، یہ مفت خور ہے۔اگر اسے اس چیز کی اہمیت کا احساس ہو تا تو یہ اس کی قیمت بھی ادا کر تا۔اگر یہ قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں تو میں اسے یہ نعمت مستقل طور پر کیوں دوں؟ خدا تعالیٰ کے الہام کی قیمت پیسے نہیں ہوتے بلکہ اس کی قیمت نفس کی قربانی ہوتی ہے۔اسی طرح دعائیں اور درود اس کی قیمت سمجھے جاتے ہیں۔غرض میں نے دیکھا ہے کہ یہ شر ہماری جماعت میں سے بعض کے لئے بڑی خیر اور برکت کا موجب ہوا ہے۔اگر انہوں نے مستقل طور پر اللہ تعالٰی کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم رکھا تو جیسے ہمارے سلسلہ میں بیسیوں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کو بچی خوا میں آتی اور الہامات ہوتے ہیں اسی طرح ان سے بھی فیض اور برکت کا سلسلہ جاری ہو جائے گا اور وہ جماعت کی روحانی زندگی کا موجب بنیں گے۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک ایسے گ قائم رہتے ہیں ، جماعتیں زندہ رہتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے ملنے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کی تڑپ دلوں میں تازہ رہتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ لو۔آپ اس امر پر کتنا زور دیا کرتے تھے کہ پرانے نبیوں کی باتیں اب قصوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔اگر تم تازہ نشانات دیکھنا چاہتے ہو تو میرے پاس آؤ اور